Read each question, consider the options, then reveal the correct answer and explanation.
100 MCQs10 per page9 of 10
MCQ 81غزوہ بدر سے غزوہ دومة الجندل تک
غزوہ احد میں مشرکین کی فوج میں 100 آدمیوں کے علاوہ تمام افراد مکی تھے۔ یہ 100 آدمی کس قبیلے سے تعلق رکھتے تھے؟
بنو کنانہ
بنو سعد
بنو ثقیف
ان میں سے کوئی نہیں
Correct answerC — بنو ثقیف
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: بنو ثقیف۔ اس سوال کو صرف ایک نام یا عدد کے طور پر یاد کرنے کے بجائے متعلقہ غزوے کے سبب، زمانی ترتیب، اہم شخصیات اور نتیجے کے ساتھ جوڑنا زیادہ مفید ہے۔ غزوۂ اُحد 3 ہجری میں بدر کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے قریش کے بڑے لشکر کے ساتھ پیش آیا۔ ابتدا میں مسلمانوں کو برتری حاصل ہوئی، لیکن جبلِ رماۃ پر مقرر تیراندازوں میں سے بڑی تعداد کے اپنی جگہ چھوڑنے سے جنگ کا نقشہ بدل گیا۔ قرآن، خصوصاً سورۂ آلِ عمران، نے اس واقعے کو اطاعتِ رسول ﷺ، نظم، صبر، دنیاوی لالچ سے اجتناب اور اجتماعی غلطیوں سے سیکھنے کا بڑا سبق قرار دیا۔ اہم وضاحت: اُحد میں قریش کے ساتھ غیر مکی اتحادی 'احابیش' اور کنانہ کے گروہ تھے؛ انہیں صرف بنو ثقیف کہنا درست نہیں۔
MCQ 82ازواج مطہرات
قرآن مجید کی حضرت عائشہؓ کے کردار کی پاکیزگی کی گواہی کے بعد الزام لگانے والوں کو کیا سزا دی گئی؟
80 کوڑے
70 کوڑے
60 کوڑے
50 کوڑے
Correct answerA — 80 کوڑے
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 80 کوڑے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صاحبزادی، ام المؤمنین اور اسلامی علمی روایت کی نمایاں ترین خواتین میں سے ہیں۔ انہوں نے حدیث، فقہ، سیرت، طب، نسب اور عربی زبان کے علم کو اگلی نسلوں تک منتقل کیا اور دو ہزار سے زائد احادیث ان سے مروی ہیں۔ واقعۂ افک غزوۂ بنی مصطلق کے بعد پیش آیا۔ منافقین نے حضرت عائشہؓ پر بہتان لگایا، پھر سورۃ النور کی آیات نازل ہوئیں جنہوں نے ان کی براءت واضح کی اور افواہ، بدگمانی اور تہمت کے بارے میں سخت اخلاقی اصول سکھائے۔ اس حقیقت کو متعلقہ ام المؤمنین کی پوری سیرت، زمانی ترتیب اور اسلامی معاشرے میں ان کے کردار کے ساتھ جوڑ کر یاد کرنا امتحانی تیاری کے ساتھ تصوراتی فہم بھی بہتر بناتا ہے۔
MCQ 83غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
کس شخص کے ہمراہ قریش کے کچھ گھڑ سواروں نے خندق کو کم چوڑائی والی جگہ سے پار کرنے کی کوشش کی؟
عمرو بن عبدود
عکرمہ ابن ابوجہل
ضرار ابن خطاب
تمام
Correct answerD — تمام
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: تمام۔ خندق کے عین طول، عرض، گہرائی اور کھدائی کے دنوں کے اعداد مختلف سیرتی کتابوں میں مختلف ہیں۔ یہ پیمائشیں عموماً بعد کی تاریخی روایات ہیں؛ بنیادی حقیقت خندق کی اتنی چوڑائی و گہرائی تھی کہ گھڑ سوار آسانی سے اسے عبور نہ کر سکیں۔ غزوۂ خندق، جسے غزوۂ احزاب بھی کہا جاتا ہے، 5 ہجری میں مدینہ پر قریش اور ان کے اتحادی قبائل کے بڑے حملے کے مقابل دفاعی معرکہ تھا۔ حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے سے مدینہ کے کھلے حصے میں خندق کھودنا عرب کے جنگی ماحول میں ایک غیر معمولی دفاعی حکمتِ عملی تھی۔ قرآن کی سورۃ الاحزاب اس بحران، منافقین کے رویے، اہلِ ایمان کی ثابت قدمی اور آخرکار شدید ہوا کے ذریعے اتحادی لشکر کے منتشر ہونے کا ذکر کرتی ہے۔
MCQ 84غزوہ بدر سے غزوہ دومة الجندل تک
سالم ابن عمیرؓ نے کس شخص کو اپنی شاعری سے اپنے قبیلے کو آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے پر قتل کیا؟
ابو عفک
ابو احمد
دونوں
ان میں سے کوئی نہیں
Correct answerC — دونوں
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: دونوں۔ اس سوال کو صرف ایک نام یا عدد کے طور پر یاد کرنے کے بجائے متعلقہ غزوے کے سبب، زمانی ترتیب، اہم شخصیات اور نتیجے کے ساتھ جوڑنا زیادہ مفید ہے۔ بدر کے بعد مدینہ کی سیاسی صورتِ حال تیزی سے بدلی۔ قریش نے شکست کا بدلہ لینے کی کوششیں جاری رکھیں، جبکہ بعض معاہداتی گروہوں کے ساتھ کشیدگی بڑھی۔ بنو قینقاع اور غزوۂ سویق جیسے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی ریاست کو داخلی معاہدات کی پابندی، سرحدی سلامتی اور دشمن کی چھاپہ مار کارروائیوں تینوں سے بیک وقت نمٹنا پڑا۔ اہم وضاحت: ابو عفک کے قتل سے متعلق روایات کی اسنادی حیثیت پر اہلِ علم نے گفتگو کی ہے؛ 'ابو عفک اور ابو احمد دونوں' والی کلید معروف روایت سے مطابقت نہیں رکھتی۔
MCQ 85غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
نبی پاک ﷺ کے حکم پر حضرت خالد بن ولیدؓ نے دومة الجندل پر حملہ کیا؛ دومة الجندل کی اہمیت کیا تھی؟
فوجی لحاظ سے اہم تھا
مشہور بندرگاہ تھی
زرخیز زمین تھی
دومة سے جزیرہ، شام اور حجاز جانے کے تمام راستے گزرتے تھے
Correct answerD — دومة سے جزیرہ، شام اور حجاز جانے کے تمام راستے گزرتے تھے
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: دومة سے جزیرہ، شام اور حجاز جانے کے تمام راستے گزرتے تھے۔ تبوک کے دوران حضرت خالد بن ولیدؓ کو دومة الجندل کی طرف بھیجا گیا جہاں مقامی حکمران اکیدر بن عبدالملک کو گرفتار کر کے معاہدے کی طرف لایا گیا۔ دومة الجندل شمالی عرب کے اہم تجارتی راستوں کا سنگم تھا۔ غزوۂ تبوک 9 ہجری میں شدید گرمی، قحط، طویل سفر اور محدود وسائل کے باوجود شمالی عرب میں بازنطینی خطرے کے مقابل ایک بڑی دفاعی مہم تھی۔ تقریباً تیس ہزار مسلمان روانہ ہوئے، لیکن کوئی بڑی جنگ نہ ہوئی۔ تبوک میں قیام کے دوران سرحدی قبائل اور علاقوں سے معاہدات ہوئے، اسلامی ریاست کی سیاسی رسائی شمال تک مضبوط ہوئی اور منافقین کے طرزِ عمل کو بھی نمایاں طور پر بے نقاب کیا گیا۔
MCQ 86غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
کس جنگ میں مسلمان نیچی اور دشمن اونچی جگہ پر ہونے کی وجہ سے تیروں کی بوچھاڑ میں آ کر مشکل کا شکار ہوئے؟
غزوہ حنین
غزوہ موتہ
غزوہ خندق
غزوہ مریسیع
Correct answerA — غزوہ حنین
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: غزوہ حنین۔ حنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی تھی جہاں ہوازن و ثقیف نے راستے کی بلندیوں میں چھپ کر اچانک تیراندازی کی۔ ابتدائی بھگدڑ کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے میدان نہیں چھوڑا اور صحابہ کو دوبارہ جمع کر کے جنگ کا رخ بدل دیا۔ غزوۂ حنین فتح مکہ کے فوراً بعد 8 ہجری میں ہوازن اور ثقیف کے اتحاد کے خلاف پیش آیا۔ مسلمانوں کی تعداد تقریباً بارہ ہزار تھی، مگر وادی کے تنگ راستے میں اچانک حملے سے ابتدائی انتشار پیدا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ چند ثابت قدم صحابہ کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے، پھر لشکر دوبارہ منظم ہوا اور فتح حاصل ہوئی۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ عددی برتری کامیابی کی ضمانت نہیں؛ نظم، قیادت اور ثابت قدمی بنیادی عوامل ہیں۔
MCQ 87غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
خندق کی کھدائی کے دوران سب سے سخت پتھر کو آنحضرت ﷺ نے تین ضربوں سے توڑا۔ اس پتھر کے ٹوٹنے کے ساتھ آنحضرت ﷺ نے کس فتح کی خوشخبری سنائی؟
ایران
روم
یمن
تمام
Correct answerD — تمام
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: تمام۔ خندق کی کھدائی کے دوران سخت چٹان توڑنے اور مستقبل کی بڑی فتوحات کی بشارت کی روایات سیرت میں مشہور ہیں۔ ان روایات کا مرکزی پیغام شدید محاصرے کے باوجود مستقبل کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے اعتماد اور امید کو ظاہر کرنا ہے۔ غزوۂ خندق، جسے غزوۂ احزاب بھی کہا جاتا ہے، 5 ہجری میں مدینہ پر قریش اور ان کے اتحادی قبائل کے بڑے حملے کے مقابل دفاعی معرکہ تھا۔ حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے سے مدینہ کے کھلے حصے میں خندق کھودنا عرب کے جنگی ماحول میں ایک غیر معمولی دفاعی حکمتِ عملی تھی۔ قرآن کی سورۃ الاحزاب اس بحران، منافقین کے رویے، اہلِ ایمان کی ثابت قدمی اور آخرکار شدید ہوا کے ذریعے اتحادی لشکر کے منتشر ہونے کا ذکر کرتی ہے۔
MCQ 88ازواج مطہرات
حضرت میمونہؓ کے دوسرے شوہر کا نام بتائیں جن کی وفات کے بعد حضرت میمونہؓ نے نبی اکرم ﷺ سے شادی کی؟
عبدالرحمن ابن عبداللہ خزاعہ
عبداللہ ابن عبداللہ خزاعہ
ابو رہم ابن عبداللہ خزاعہ
ان میں سے کوئی بھی نہیں
Correct answerC — ابو رہم ابن عبداللہ خزاعہ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: ابو رہم ابن عبداللہ خزاعہ۔ حضرت میمونہ بنت حارثؓ رسول اللہ ﷺ کی آخری نکاح کی جانے والی ازواج میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کے وسیع خاندانی روابط حضرت عباسؓ، ابن عباسؓ، خالد بن ولیدؓ اور دیگر معروف شخصیات سے جڑتے تھے، جس سے عرب قبائل کے درمیان سماجی رشتوں کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ وفات کے سال، عمر اور نمازِ جنازہ جیسی تفصیلات سیرت و تراجم کی کتابوں سے آتی ہیں؛ بعض اعداد میں روایتی اختلاف پایا جاتا ہے، اس لیے زمانی ترتیب کو بنیادی واقعات کے ساتھ جوڑ کر یاد کریں۔ ازواجِ مطہرات کے نکاح صرف خاندانی واقعات نہیں تھے؛ ان میں بیواؤں کی کفالت، قبائلی مصالحت، دینی تعلیم، سماجی اصلاح اور امت کی تربیت جیسے متعدد پہلو بھی شامل تھے۔
MCQ 89ازواج مطہرات
حضرت خدیجہؓ کی بہن ہالہ بنت خویلد کے آنے پر آپ ﷺ نے حضرت خدیجہؓ کو یاد فرمایا۔ اس حدیث مبارکہ کے راوی کون ہیں؟
حضرت ابوبکرؓ
حضرت عائشہؓ
حضرت ابو ہریرہؓ
حضرت طلحہؓ
Correct answerC — حضرت ابو ہریرہؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حضرت ابو ہریرہؓ۔ حضرت خدیجہ بنت خویلدؓ رسول اللہ ﷺ کی پہلی زوجہ، ابتدائی اسلام کی سب سے بڑی مددگار اور حضرت فاطمہؓ سمیت آپ ﷺ کی اولاد کی والدہ تھیں۔ انہوں نے آغازِ وحی کے مشکل مرحلے میں مالی، جذباتی اور اخلاقی سہارا دیا، اس لیے سیرت میں ان کا مقام غیر معمولی ہے۔ اس حقیقت کو متعلقہ ام المؤمنین کی پوری سیرت، زمانی ترتیب اور اسلامی معاشرے میں ان کے کردار کے ساتھ جوڑ کر یاد کرنا امتحانی تیاری کے ساتھ تصوراتی فہم بھی بہتر بناتا ہے۔ اہم وضاحت: ہالہ بنت خویلد کی آواز سن کر حضرت خدیجہؓ کو یاد کرنے والی مشہور روایت صحیح بخاری میں حضرت عائشہؓ سے منقول ہے؛ موجودہ جواب کلید حضرت ابو ہریرہؓ بتاتی ہے، جو قابلِ اصلاح ہے۔
MCQ 90غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
قبیلہ بنی جشم کے اس بوڑھے اور تجربہ کار جنگجو کا نام بتائیں جو زیادہ عمر کی وجہ سے لڑائی کے قابل نہ تھا لیکن فوجی امور کا وسیع تجربہ رکھتا تھا؟
درید ابن صمہ
درید ابن الماس
درید ابن الحارث
درید ابن العتبہ
Correct answerA — درید ابن صمہ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: درید ابن صمہ۔ درید بن صمہ ایک عمر رسیدہ مگر تجربہ کار جنگجو تھا۔ وہ عملی لڑائی کے قابل نہیں تھا، مگر جنگی مشورے کے لیے ساتھ لایا گیا؛ اس نے خواتین، بچوں اور مال کو میدان کے قریب لانے کے فیصلے کو غیر دانشمندانہ قرار دیا۔ غزوۂ حنین فتح مکہ کے فوراً بعد 8 ہجری میں ہوازن اور ثقیف کے اتحاد کے خلاف پیش آیا۔ مسلمانوں کی تعداد تقریباً بارہ ہزار تھی، مگر وادی کے تنگ راستے میں اچانک حملے سے ابتدائی انتشار پیدا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ چند ثابت قدم صحابہ کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے، پھر لشکر دوبارہ منظم ہوا اور فتح حاصل ہوئی۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ عددی برتری کامیابی کی ضمانت نہیں؛ نظم، قیادت اور ثابت قدمی بنیادی عوامل ہیں۔