Read each question, consider the options, then reveal the correct answer and explanation.
100 MCQs10 per page10 of 10
MCQ 91ازواج مطہرات
حضرت زینب بنت جحشؓ کے انتقال کے وقت ان کی عمر مبارک کیا تھی؟
53 سال
54 سال
55 سال
56 سال
Correct answerA — 53 سال
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 53 سال۔ حضرت زینب بنت جحشؓ رسول اللہ ﷺ کی قریبی رشتہ دار اور ام المؤمنین تھیں۔ ان کا نکاح حضرت زید بن حارثہؓ کے بعد رسول اللہ ﷺ سے ہوا، اور اس واقعے کے ذریعے قرآن نے منہ بولے بیٹے کو حقیقی نسبی بیٹے کے برابر سمجھنے کی جاہلی رسم کی اصلاح واضح کی۔ وہ سخاوت و صدقہ میں ممتاز تھیں۔ وفات کے سال، عمر اور نمازِ جنازہ جیسی تفصیلات سیرت و تراجم کی کتابوں سے آتی ہیں؛ بعض اعداد میں روایتی اختلاف پایا جاتا ہے، اس لیے زمانی ترتیب کو بنیادی واقعات کے ساتھ جوڑ کر یاد کریں۔ قدیم سیرت میں عمر کے اعداد عموماً نسبی و تاریخی روایات سے اخذ ہوتے ہیں؛ مختلف تقاویم اور روایات کی وجہ سے بعض شخصیات کی صحیح عمر میں اختلاف ملتا ہے۔
MCQ 92ازواج مطہرات
کچھ روایات کے مطابق ماریہ قبطیہؓ آپ ﷺ کی لونڈی ہی رہیں۔ اگر شادی ہوئی تھی تو شادی کے وقت ان کی عمر مبارک کیا تھی؟
20 سال
30 سال
40 سال
50 سال
Correct answerA — 20 سال
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 20 سال۔ مقوقسِ مصر نے رسول اللہ ﷺ کے دعوتی خط کے جواب میں تحائف بھیجے، جن میں حضرت ماریہ قبطیہؓ بھی شامل تھیں۔ یہ واقعہ مدنی دور کی بین الاقوامی سفارت اور دعوتی خطوط کے پس منظر سے متعلق ہے۔ ازواجِ مطہرات کے نکاح صرف خاندانی واقعات نہیں تھے؛ ان میں بیواؤں کی کفالت، قبائلی مصالحت، دینی تعلیم، سماجی اصلاح اور امت کی تربیت جیسے متعدد پہلو بھی شامل تھے۔ قدیم سیرت میں عمر کے اعداد عموماً نسبی و تاریخی روایات سے اخذ ہوتے ہیں؛ مختلف تقاویم اور روایات کی وجہ سے بعض شخصیات کی صحیح عمر میں اختلاف ملتا ہے۔ اہم وضاحت: حضرت ماریہؓ کی عمرِ آمد یا نکاح کے بارے میں 20 سال کا عدد مضبوط متفق علیہ تاریخی ثبوت نہیں رکھتا۔
MCQ 93غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
اس جگہ کا نام بتائیں جہاں ابو بصیر جا کر آباد ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے مکہ کے دوسرے ستم رسیدہ مسلمان بھی وہاں آنا شروع ہوگئے؟
عیص، شام کے ساحل پر
عریش، شام کے ساحل پر
جحفہ، شام کے ساحل پر
مکران، شام کے ساحل پر
Correct answerA — عیص، شام کے ساحل پر
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: عیص، شام کے ساحل پر۔ اس سوال کو متعلقہ واقعے کے سبب، اہم کرداروں، زمانی ترتیب اور نتیجے کے ساتھ جوڑ کر یاد کرنا زیادہ مفید ہے، کیونکہ مدنی دور کے یہ واقعات ایک دوسرے سے مسلسل سیاسی و سماجی تسلسل رکھتے ہیں۔ صلح حدیبیہ 6 ہجری میں اس وقت ہوئی جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ جنگ کے ارادے کے بغیر عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش نے داخلہ روک دیا، طویل مذاکرات ہوئے، بیعتِ رضوان ہوئی اور پھر دس سالہ جنگ بندی سمیت متعدد شرائط پر معاہدہ طے پایا۔ بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوئیں، لیکن سورۃ الفتح نے اسے 'فتح مبین' قرار دیا؛ امن کے ماحول نے دعوت، سفارت اور قبائلی روابط کے تیز پھیلاؤ کی راہ کھولی۔
MCQ 94غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
غزوہ خندق میں منافق قبائل خصوصاً قریش کا مدینہ کا محاصرہ ختم کرنے کی وجہ کیا تھی؟
ماہ ذی الحج کے دوران حج کے انتظامات کرنے کی مصروفیات
خوراک کی کمی اور سپاہیوں کی بیماری
بنو قریظہ کی دھوکہ دہی
شدید تیز ہوا اور بارش
Correct answerD — شدید تیز ہوا اور بارش
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: شدید تیز ہوا اور بارش۔ سورۃ الاحزاب 33:9 میں دشمن کے لشکروں کے مقابل ایک شدید ہوا اور غیر مرئی مدد کا ذکر ہے۔ سرد ہوا، رسد کی دشواری، باہمی بداعتمادی اور طویل محاصرے نے اتحادی لشکر کو واپس جانے پر مجبور کیا۔ غزوۂ خندق، جسے غزوۂ احزاب بھی کہا جاتا ہے، 5 ہجری میں مدینہ پر قریش اور ان کے اتحادی قبائل کے بڑے حملے کے مقابل دفاعی معرکہ تھا۔ حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے سے مدینہ کے کھلے حصے میں خندق کھودنا عرب کے جنگی ماحول میں ایک غیر معمولی دفاعی حکمتِ عملی تھی۔ قرآن کی سورۃ الاحزاب اس بحران، منافقین کے رویے، اہلِ ایمان کی ثابت قدمی اور آخرکار شدید ہوا کے ذریعے اتحادی لشکر کے منتشر ہونے کا ذکر کرتی ہے۔
MCQ 95غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
آنحضرت ﷺ کی اس پھوپھی کا کیا نام تھا جو جنگ خندق کے دوران حضرت حسان بن ثابتؓ کی حفاظت میں تھیں؟
حضرت صفیہ بنت عبدالمطلبؓ
حضرت زینب بنت عبدالمطلبؓ
حضرت ام کلثوم بنت عبدالمطلبؓ
حضرت سودہ بنت عبدالمطلبؓ
Correct answerA — حضرت صفیہ بنت عبدالمطلبؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حضرت صفیہ بنت عبدالمطلبؓ۔ حضرت صفیہ بنت عبدالمطلبؓ رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ خندق کے دوران خواتین اور بچوں کے محفوظ مقام کے قریب ایک مشکوک شخص کے واقعے میں ان کی جرات کا ذکر سیرت کی روایات میں آتا ہے۔ غزوۂ خندق، جسے غزوۂ احزاب بھی کہا جاتا ہے، 5 ہجری میں مدینہ پر قریش اور ان کے اتحادی قبائل کے بڑے حملے کے مقابل دفاعی معرکہ تھا۔ حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے سے مدینہ کے کھلے حصے میں خندق کھودنا عرب کے جنگی ماحول میں ایک غیر معمولی دفاعی حکمتِ عملی تھی۔ قرآن کی سورۃ الاحزاب اس بحران، منافقین کے رویے، اہلِ ایمان کی ثابت قدمی اور آخرکار شدید ہوا کے ذریعے اتحادی لشکر کے منتشر ہونے کا ذکر کرتی ہے۔
MCQ 96غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
عسفان کے مقام پر آپ ﷺ کو کس قبیلے کے فرد ملا جس نے آپ ﷺ کو قریش سے متعلق پوری واقفیت دی؟
بنی کلب
بنی کعب
بنی اسلم
بنی اسدی
Correct answerB — بنی کعب
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: بنی کعب۔ اس سوال کو متعلقہ واقعے کے سبب، اہم کرداروں، زمانی ترتیب اور نتیجے کے ساتھ جوڑ کر یاد کرنا زیادہ مفید ہے، کیونکہ مدنی دور کے یہ واقعات ایک دوسرے سے مسلسل سیاسی و سماجی تسلسل رکھتے ہیں۔ صلح حدیبیہ 6 ہجری میں اس وقت ہوئی جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ جنگ کے ارادے کے بغیر عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش نے داخلہ روک دیا، طویل مذاکرات ہوئے، بیعتِ رضوان ہوئی اور پھر دس سالہ جنگ بندی سمیت متعدد شرائط پر معاہدہ طے پایا۔ بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوئیں، لیکن سورۃ الفتح نے اسے 'فتح مبین' قرار دیا؛ امن کے ماحول نے دعوت، سفارت اور قبائلی روابط کے تیز پھیلاؤ کی راہ کھولی۔
MCQ 97پہلی اسلامی سلطنت کا قیام تا وفات حضرت محمد ﷺ
آپ ﷺ کے انتقال کے وقت حضرت ام کلثومؓ کی عمر کتنی تھی؟
6 سال
7 سال
8 سال
9 سال
Correct answerA — 6 سال
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 6 سال۔ حضرت ام کلثوم بنت علیؓ، حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کی صاحبزادی اور رسول اللہ ﷺ کی نواسی تھیں۔ ان کی تاریخِ ولادت کے بارے میں روایات میں اختلاف ہے، اس لیے عمر سے متعلق سوالات میں ماخذ کی تعیین بہت اہم ہے۔ اہم وضاحت: حضرت ام کلثوم بنت علیؓ کی عمر وفاتِ نبوی ﷺ کے وقت ان کی متنازع تاریخِ ولادت پر منحصر ہے؛ “6 سال” قطعی تاریخی عدد نہیں۔ یہ سوال سیرتِ نبوی ﷺ کے مدنی دور اور پہلی اسلامی ریاست کے ایک اہم پہلو سے متعلق ہے۔ اسے صرف ایک عدد یا نام کے طور پر یاد کرنے کے بجائے متعلقہ واقعے کی زمانی ترتیب، سبب، کرداروں اور نتیجے کے ساتھ سمجھنا امتحانی تیاری اور تصوراتی فہم دونوں کے لیے بہتر ہے۔
MCQ 98غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
غزوہ بدر کے بعد غزوہ بنو قینقاع رونما ہوا۔ غزوہ احد کے بعد 4 ہجری میں ہونے والے غزوہ بنو نضیر کے بعد کون سا غزوہ رونما ہوا؟
غزوہ خیبر
غزوہ خندق
غزوہ طائف
غزوہ موتہ
Correct answerB — غزوہ خندق
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: غزوہ خندق۔ اس سوال کو متعلقہ واقعے کے سبب، اہم کرداروں، زمانی ترتیب اور نتیجے کے ساتھ جوڑ کر یاد کرنا زیادہ مفید ہے، کیونکہ مدنی دور کے یہ واقعات ایک دوسرے سے مسلسل سیاسی و سماجی تسلسل رکھتے ہیں۔ غزوۂ خندق، جسے غزوۂ احزاب بھی کہا جاتا ہے، 5 ہجری میں مدینہ پر قریش اور ان کے اتحادی قبائل کے بڑے حملے کے مقابل دفاعی معرکہ تھا۔ حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے سے مدینہ کے کھلے حصے میں خندق کھودنا عرب کے جنگی ماحول میں ایک غیر معمولی دفاعی حکمتِ عملی تھی۔ قرآن کی سورۃ الاحزاب اس بحران، منافقین کے رویے، اہلِ ایمان کی ثابت قدمی اور آخرکار شدید ہوا کے ذریعے اتحادی لشکر کے منتشر ہونے کا ذکر کرتی ہے۔
MCQ 99ازواج مطہرات
11 رمضان کو حضرت خدیجہؓ کا انتقال ہوا۔ سال بتائیں؟
7 نبوی
8 نبوی
9 نبوی
10 نبوی
Correct answerD — 10 نبوی
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 10 نبوی۔ حضرت خدیجہ بنت خویلدؓ رسول اللہ ﷺ کی پہلی زوجہ، ابتدائی اسلام کی سب سے بڑی مددگار اور حضرت فاطمہؓ سمیت آپ ﷺ کی اولاد کی والدہ تھیں۔ انہوں نے آغازِ وحی کے مشکل مرحلے میں مالی، جذباتی اور اخلاقی سہارا دیا، اس لیے سیرت میں ان کا مقام غیر معمولی ہے۔ وفات کے سال، عمر اور نمازِ جنازہ جیسی تفصیلات سیرت و تراجم کی کتابوں سے آتی ہیں؛ بعض اعداد میں روایتی اختلاف پایا جاتا ہے، اس لیے زمانی ترتیب کو بنیادی واقعات کے ساتھ جوڑ کر یاد کریں۔ اہم وضاحت: حضرت خدیجہؓ کی وفات بعثت کے دسویں سال، عام الحزن میں ہوئی۔ 11 رمضان کی مخصوص تاریخ مشہور روایات میں آتی ہے مگر قطعی طور پر متفق علیہ نہیں۔
MCQ 100غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
بنو خزاعہ کے اس سردار کا نام بتائیں جو بدیل ابن ورقاء کے ساتھ مدینہ آیا اور بنو بکر کے حملے کی شکایت کی؟
عامر ابن سالم الخزاعی
عمرو ابن سالم الخزاعی
عبداللہ ابن سالم الخزاعی
حذیفہ ابن سالم الخزاعی
Correct answerB — عمرو ابن سالم الخزاعی
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: عمرو ابن سالم الخزاعی۔ صلح حدیبیہ کے تحت قبائل کو کسی بھی فریق کے اتحاد میں شامل ہونے کی آزادی تھی۔ بنو خزاعہ مسلمانوں کے اور بنو بکر قریش کے حلیف بنے؛ بنو بکر کے حملے میں قریش کی مدد نے معاہدہ توڑ دیا۔ فتح مکہ 8 ہجری میں صلح حدیبیہ کے ٹوٹنے کے بعد پیش آئی۔ بنو بکر کے بنو خزاعہ پر حملے اور قریش کی مدد نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ رسول اللہ ﷺ تقریباً دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ کی طرف بڑھے اور شہر بڑی حد تک بغیر وسیع خونریزی کے فتح ہوا۔ فتح کے بعد عام معافی، بتوں کا خاتمہ، خانۂ کعبہ کی تطہیر اور قریش سے خطاب نے اسلامی فتح کو انتقام کے بجائے اخلاقی و سیاسی تبدیلی کے نمونے میں بدل دیا۔