Read each question, consider the options, then reveal the correct answer and explanation.
100 MCQs10 per page3 of 10
MCQ 21غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
غزوہ حنین میں مال غنیمت کی تقسیم مسلمانوں کے لیے کس طرح کی گئی؟
ہر مسلمان کے لیے چار اونٹ اور چالیس بکریاں
ہر مسلمان کے لیے پانچ اونٹ اور پچاس بکریاں
ہر مسلمان کے لیے چھ اونٹ اور پچاس بکریاں
ہر مسلمان کے لیے سات اونٹ اور پچپن بکریاں
Correct answerA — ہر مسلمان کے لیے چار اونٹ اور چالیس بکریاں
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: ہر مسلمان کے لیے چار اونٹ اور چالیس بکریاں۔ حنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی تھی جہاں ہوازن و ثقیف نے راستے کی بلندیوں میں چھپ کر اچانک تیراندازی کی۔ ابتدائی بھگدڑ کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے میدان نہیں چھوڑا اور صحابہ کو دوبارہ جمع کر کے جنگ کا رخ بدل دیا۔ غزوۂ حنین فتح مکہ کے فوراً بعد 8 ہجری میں ہوازن اور ثقیف کے اتحاد کے خلاف پیش آیا۔ مسلمانوں کی تعداد تقریباً بارہ ہزار تھی، مگر وادی کے تنگ راستے میں اچانک حملے سے ابتدائی انتشار پیدا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ چند ثابت قدم صحابہ کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے، پھر لشکر دوبارہ منظم ہوا اور فتح حاصل ہوئی۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ عددی برتری کامیابی کی ضمانت نہیں؛ نظم، قیادت اور ثابت قدمی بنیادی عوامل ہیں۔ اہم وضاحت: مالِ غنیمت کی تقسیم ہر مسلمان کے لیے یکساں 'چار اونٹ اور چالیس بکریاں' کے فارمولے سے نہیں ہوئی۔ مؤلفة القلوب اور مختلف شرکاء کو الگ عطیات بھی دیے گئے؛ موجودہ کلید سادہ کاری ہے۔
MCQ 22غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
غزوہ بنو قریظہ کے بعد کون سے ایک قریبی علاقے سے مسلمانوں کی طرف لوٹ مار کی غرض سے بڑھ رہے تھے؟
بنو اسد
بنو لحیان
بنو قینقاع
ان میں سے کوئی نہیں
Correct answerB — بنو لحیان
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: بنو لحیان۔ خندق کے فوراً بعد بنو قریظہ کا محاصرہ ہوا۔ ان کے بارے میں فیصلہ حضرت سعد بن معاذؓ نے دیا، جنہیں خود بنو قریظہ نے ثالث/منصف کے طور پر قبول کیا تھا۔ بنو لحیان کا نام واقعۂ رجیع کے پس منظر سے جڑا ہے، جہاں دعوت و تعلیم کے لیے بھیجے گئے صحابہ غداری کا شکار ہوئے۔ بعد کی مہم کا مقصد اس خطرے کا سدباب اور علاقے میں اسلامی ریاست کی موجودگی ظاہر کرنا تھا۔ غزوۂ بنو لحیان اور غزوۂ ذی قَرَد مدینہ کے گرد قبائلی خطرات، رجیع کے واقعے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اور مویشیوں پر چھاپوں کے جواب میں دفاعی مہمات تھیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی ریاست کو صرف بڑی باقاعدہ جنگوں نہیں بلکہ تیز رفتار چھاپہ مار کارروائیوں، قبائلی انتقام اور شاہراہوں کی سلامتی سے بھی نمٹنا پڑتا تھا۔ اہم وضاحت: غزوۂ بنو لحیان کا پس منظر بنیادی طور پر واقعۂ رجیع اور قبائلی خطرے سے متعلق تھا؛ 'لوٹ مار کے لیے بڑھ رہے تھے' والی تعبیر زیادہ سادہ اور غیر واضح ہے۔
MCQ 23غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
غزوہ حنین میں آنحضرت ﷺ کے ہمراہ کتنے مجاہدین تھے؟
10,000
12,000
14,000
16,000
Correct answerB — 12,000
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 12,000۔ حنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی تھی جہاں ہوازن و ثقیف نے راستے کی بلندیوں میں چھپ کر اچانک تیراندازی کی۔ ابتدائی بھگدڑ کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے میدان نہیں چھوڑا اور صحابہ کو دوبارہ جمع کر کے جنگ کا رخ بدل دیا۔ فتح مکہ کے تقریباً دس ہزار مجاہدین کے ساتھ مکہ کے قریب دو ہزار نو مسلم بھی شریک ہوئے، جس سے مجموعی تعداد تقریباً بارہ ہزار بنی۔ قرآن 9:25 میں حنین کے موقع پر کثرتِ تعداد پر عارضی اعتماد سے سبق لینے کا ذکر ہے۔ غزوۂ حنین فتح مکہ کے فوراً بعد 8 ہجری میں ہوازن اور ثقیف کے اتحاد کے خلاف پیش آیا۔ مسلمانوں کی تعداد تقریباً بارہ ہزار تھی، مگر وادی کے تنگ راستے میں اچانک حملے سے ابتدائی انتشار پیدا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ چند ثابت قدم صحابہ کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے، پھر لشکر دوبارہ منظم ہوا اور فتح حاصل ہوئی۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ عددی برتری کامیابی کی ضمانت نہیں؛ نظم، قیادت اور ثابت قدمی بنیادی عوامل ہیں۔
MCQ 24غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
کس مشرک قبیلے کے ساتھ مسلمانوں کا دوستانہ معاہدہ تھا اور وہ منافقین کی توقعات کے برعکس جنگ خندق میں اس معاہدہ پر قائم رہے؟
بنو مصطلق
بنو نضیر
بنو قریظہ
بنو تمیم
Correct answerC — بنو قریظہ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: بنو قریظہ۔ بنو قریظہ مدینہ میں موجود اہم یہودی قبیلہ تھا اور مسلمانوں کے ساتھ معاہداتی تعلق رکھتا تھا۔ خندق کے دوران ان کے رویے نے مدینہ کے اندر سے حملے کے خطرے کو بڑھایا، جس سے مسلمانوں پر دو طرفہ دباؤ پیدا ہوا۔ غزوۂ خندق، جسے غزوۂ احزاب بھی کہا جاتا ہے، 5 ہجری میں مدینہ پر قریش اور ان کے اتحادی قبائل کے بڑے حملے کے مقابل دفاعی معرکہ تھا۔ حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے سے مدینہ کے کھلے حصے میں خندق کھودنا عرب کے جنگی ماحول میں ایک غیر معمولی دفاعی حکمتِ عملی تھی۔ قرآن کی سورۃ الاحزاب اس بحران، منافقین کے رویے، اہلِ ایمان کی ثابت قدمی اور آخرکار شدید ہوا کے ذریعے اتحادی لشکر کے منتشر ہونے کا ذکر کرتی ہے۔ اہم وضاحت: سوال کی عبارت میں تضاد ہے۔ بنو قریظہ ابتدا میں معاہدے میں تھے، لیکن خندق کے بحران میں ان پر معاہدہ توڑنے کا الزام ہی بعد کے بنو قریظہ واقعے کی بنیاد بنا؛ اس لیے 'آخر تک معاہدے پر قائم رہے' کہنا درست نہیں۔
MCQ 25غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
بنو قریظہ کی دھوکہ دہی پر آنحضرت ﷺ نے کتنے سپاہیوں کو غزوہ خندق میں بنو قریظہ کی مزاحمت روکنے پر مامور کیا؟
50
95
101
200
Correct answerD — 200
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 200۔ قدیم سیرت میں فوجی اعداد مختلف روایتوں میں معمولی فرق کے ساتھ آتے ہیں۔ اہم تصور یہ ہے کہ اتحادی لشکر مسلمانوں سے کئی گنا بڑا تھا، جبکہ مسلمانوں نے خندق اور داخلی دفاع کے ذریعے عددی کمزوری کو حکمتِ عملی سے متوازن کیا۔ بنو قریظہ مدینہ میں موجود اہم یہودی قبیلہ تھا اور مسلمانوں کے ساتھ معاہداتی تعلق رکھتا تھا۔ خندق کے دوران ان کے رویے نے مدینہ کے اندر سے حملے کے خطرے کو بڑھایا، جس سے مسلمانوں پر دو طرفہ دباؤ پیدا ہوا۔ غزوۂ خندق، جسے غزوۂ احزاب بھی کہا جاتا ہے، 5 ہجری میں مدینہ پر قریش اور ان کے اتحادی قبائل کے بڑے حملے کے مقابل دفاعی معرکہ تھا۔ حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے سے مدینہ کے کھلے حصے میں خندق کھودنا عرب کے جنگی ماحول میں ایک غیر معمولی دفاعی حکمتِ عملی تھی۔ قرآن کی سورۃ الاحزاب اس بحران، منافقین کے رویے، اہلِ ایمان کی ثابت قدمی اور آخرکار شدید ہوا کے ذریعے اتحادی لشکر کے منتشر ہونے کا ذکر کرتی ہے۔
MCQ 26ازواج مطہرات
کس زوجہ سے متعلق آپ ﷺ پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ وہ اپنے لمبے ہاتھوں کی وجہ سے جنت میں ان سب سے پہلے ملیں گی؟
حضرت سودہؓ
حضرت میمونہؓ
زینب بنت خزیمہؓ
حضرت زینب بنت جحشؓ
Correct answerD — حضرت زینب بنت جحشؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حضرت زینب بنت جحشؓ۔ حضرت زینب بنت جحشؓ رسول اللہ ﷺ کی قریبی رشتہ دار اور ام المؤمنین تھیں۔ ان کا نکاح حضرت زید بن حارثہؓ کے بعد رسول اللہ ﷺ سے ہوا، اور اس واقعے کے ذریعے قرآن نے منہ بولے بیٹے کو حقیقی نسبی بیٹے کے برابر سمجھنے کی جاہلی رسم کی اصلاح واضح کی۔ وہ سخاوت و صدقہ میں ممتاز تھیں۔ ازواج مطہرات نے 'سب سے لمبے ہاتھ' کے ارشاد کو پہلے ظاہری لمبائی سمجھا، لیکن بعد میں واضح ہوا کہ مراد صدقہ و سخاوت میں سبقت تھی۔ حضرت زینب بنت جحشؓ اپنی محنت کی کمائی صدقہ کرنے کے لیے مشہور تھیں۔ ازواجِ مطہرات کے نکاح صرف خاندانی واقعات نہیں تھے؛ ان میں بیواؤں کی کفالت، قبائلی مصالحت، دینی تعلیم، سماجی اصلاح اور امت کی تربیت جیسے متعدد پہلو بھی شامل تھے۔ قریش اور عرب کے قبائلی نسب کو سمجھنا سیرت کے سیاسی و سماجی تعلقات سمجھنے میں مدد دیتا ہے، کیونکہ نکاح اور خاندانی رشتے قبائل کے درمیان اعتماد اور ذمہ داری کے اہم ذرائع تھے۔
MCQ 27غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
جنگ حنین میں جب مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی تو کس نے دشمن کے سیلاب کو اپنے سفید خچر کے ذریعے روکنے کی کوشش کی؟
نبی پاک ﷺ
حضرت عمرؓ
حضرت علیؓ
کوئی نہیں
Correct answerA — نبی پاک ﷺ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: نبی پاک ﷺ۔ حنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی تھی جہاں ہوازن و ثقیف نے راستے کی بلندیوں میں چھپ کر اچانک تیراندازی کی۔ ابتدائی بھگدڑ کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے میدان نہیں چھوڑا اور صحابہ کو دوبارہ جمع کر کے جنگ کا رخ بدل دیا۔ رسول اللہ ﷺ حنین میں ایک سفید خچر پر سوار تھے۔ قریب موجود حضرت عباسؓ اور ابو سفیان بن حارثؓ جیسے صحابہ نے سواری اور دفاع میں مدد دی؛ روایات میں لگام یا رکاب پکڑنے کی تفصیلات مختلف انداز سے ملتی ہیں۔ غزوۂ حنین فتح مکہ کے فوراً بعد 8 ہجری میں ہوازن اور ثقیف کے اتحاد کے خلاف پیش آیا۔ مسلمانوں کی تعداد تقریباً بارہ ہزار تھی، مگر وادی کے تنگ راستے میں اچانک حملے سے ابتدائی انتشار پیدا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ چند ثابت قدم صحابہ کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے، پھر لشکر دوبارہ منظم ہوا اور فتح حاصل ہوئی۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ عددی برتری کامیابی کی ضمانت نہیں؛ نظم، قیادت اور ثابت قدمی بنیادی عوامل ہیں۔
MCQ 28غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
اے گروہ قریش! میں قیصر، کسریٰ اور نجاشی کے شاہی درباروں میں باعزت حاضری حاصل کر چکا ہوں لیکن محمد ﷺ جیسی فرماں بردار قوم نہیں دیکھی۔ یہ الفاظ قریش کے اس وفد کے سربراہ کے ہیں جو مسلمانوں سے حدیبیہ کے مقام پر بدیل ابن ورقاء کے بعد بات چیت کرنے آیا۔ اس سربراہ کا نام کیا تھا؟
عروہ ابن مسعود ثقفی
عروہ ابن مسعود زہری
عروہ ابن مسعود مالکی
عروہ ابن مسعود اوسی
Correct answerA — عروہ ابن مسعود ثقفی
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: عروہ ابن مسعود ثقفی۔ بدیل بن ورقاء خزاعی نے مسلمانوں کے پرامن عمرہ کے ارادے کو دیکھا اور قریش تک یہ پیغام پہنچایا۔ خزاعہ کے قریش اور مسلمانوں دونوں سے پرانے قبائلی روابط تھے، اس لیے وہ ثالثی میں اہم کردار ادا کر سکتے تھے۔ عروہ بن مسعود ثقفی قریش کی طرف سے مذاکرات کے لیے آیا۔ اس نے صحابہ کی رسول اللہ ﷺ سے گہری محبت، اطاعت اور احترام کو قریب سے دیکھا اور واپس جا کر قریش کو اس غیر معمولی وفاداری سے آگاہ کیا۔ صلح حدیبیہ 6 ہجری میں اس وقت ہوئی جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ جنگ کے ارادے کے بغیر عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش نے داخلہ روک دیا، طویل مذاکرات ہوئے، بیعتِ رضوان ہوئی اور پھر دس سالہ جنگ بندی سمیت متعدد شرائط پر معاہدہ طے پایا۔ بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوئیں، لیکن سورۃ الفتح نے اسے 'فتح مبین' قرار دیا؛ امن کے ماحول نے دعوت، سفارت اور قبائلی روابط کے تیز پھیلاؤ کی راہ کھولی۔
MCQ 29غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
کس شخص نے رضاکار کے طور پر اپنی خدمات پیش کیں حالانکہ اس نے غزوہ موتہ سے صرف دو ماہ قبل اسلام قبول کیا تھا؟
خالد ابن ولیدؓ
عبدالرحمان ابن عوفؓ
ابوسفیانؓ
ان میں سے کوئی نہیں
Correct answerA — خالد ابن ولیدؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: خالد ابن ولیدؓ۔ موتہ موجودہ اردن کے علاقے میں واقع تھا۔ اس مہم کا پس منظر رسول اللہ ﷺ کے سفیر حارث بن عمیر الازدی کے قتل سے جوڑا جاتا ہے، جو اس زمانے کے سفارتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی تھی۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے اسلام قبول کرنے کے کچھ ہی عرصے بعد موتہ میں غیر معمولی فوجی تدبیر دکھائی۔ روایات میں آتا ہے کہ ان کے ہاتھ میں کئی تلواریں ٹوٹیں، جس سے جنگ کی شدت ظاہر ہوتی ہے۔ غزوۂ موتہ 8 ہجری میں شمالی عرب/شام کی سرحدی فضا میں بازنطینی اثر کے تحت موجود قوتوں کے مقابل پیش آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے تین ہزار کا لشکر بھیجا اور قیادت کی ترتیب پہلے ہی مقرر کی: زید بن حارثہؓ، پھر جعفر بن ابی طالبؓ، پھر عبداللہ بن رواحہؓ۔ تینوں کی شہادت کے بعد حضرت خالد بن ولیدؓ نے فوج کو منظم انداز میں واپس نکالا، جس پر انہیں 'سیف اللہ' کہا گیا۔ یہ معرکہ اسلامی ریاست کے عرب سے باہر بین الاقوامی عسکری رابطے کا اہم آغاز سمجھا جاتا ہے۔
MCQ 30غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
معاہدہ حدیبیہ کے بعد جب مسلمان مکہ سے مدینہ پہنچے تو کون صحابی مکہ سے مدینہ فرار ہو کر آئے لیکن آنحضرت ﷺ نے معاہدہ حدیبیہ کے مطابق انہیں قریش کے وفد کے حوالے کر دیا؟ بعد میں انہوں نے قریش کا ایک نمائندہ قتل کر دیا۔
ابو حذیفہؓ
ابوجندلؓ
ابوبصیرؓ
ابوعبیدہؓ
Correct answerC — ابوبصیرؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: ابوبصیرؓ۔ حدیبیہ کی بڑی شرائط میں اس سال عمرہ کیے بغیر واپسی، اگلے سال تین دن کے عمرے کی اجازت، دس سالہ جنگ بندی اور قبائل کو کسی بھی فریق کے اتحاد میں شامل ہونے کی آزادی شامل تھی۔ ابو بصیرؓ مکہ سے مدینہ آئے مگر معاہدے کی شرط کے تحت واپس کیے گئے۔ بعد میں ساحلی راستے پر آزاد گروہ بنا جس نے قریش کے تجارتی قافلوں پر دباؤ بڑھایا، یہاں تک کہ قریش نے خود اس واپسی والی شرط کے عملی خاتمے کی درخواست کی۔ صلح حدیبیہ 6 ہجری میں اس وقت ہوئی جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ جنگ کے ارادے کے بغیر عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش نے داخلہ روک دیا، طویل مذاکرات ہوئے، بیعتِ رضوان ہوئی اور پھر دس سالہ جنگ بندی سمیت متعدد شرائط پر معاہدہ طے پایا۔ بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوئیں، لیکن سورۃ الفتح نے اسے 'فتح مبین' قرار دیا؛ امن کے ماحول نے دعوت، سفارت اور قبائلی روابط کے تیز پھیلاؤ کی راہ کھولی۔