Read each question, consider the options, then reveal the correct answer and explanation.
100 MCQs10 per page2 of 10
MCQ 11غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
حضرت عثمانؓ نے غزوہ تبوک کے لیے کیا چیزیں فراہم کیں جن کی وجہ سے وہ سامانِ جیش العسرہ مہیا کرنے والوں میں نمایاں ہوئے؟
ایک ہزار اونٹ
ایک سو گھوڑے
سو دینار
A، B اور C تینوں
Correct answerD — A، B اور C تینوں
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: A، B اور C تینوں۔ تبوک شمال مغربی عرب میں شام کی سمت ایک اہم آبی و تجارتی مقام تھا۔ مہم کا مقصد ممکنہ بازنطینی/غسانی خطرے کا مقابلہ اور شمالی سرحدوں پر سیاسی قوت کا اظہار تھا۔ 'جیش العسرہ' یعنی تنگی کا لشکر، اس لیے کہا گیا کہ سفر طویل، موسم سخت، خوراک و سواری کم اور دشمن طاقتور سمجھا جاتا تھا۔ سورۃ التوبہ نے اس مہم کے اخلاص، قربانی اور منافقانہ بہانوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ حضرت عثمانؓ کی تبوک کے لشکر کے لیے مالی مدد بہت مشہور ہے؛ انہوں نے بڑی تعداد میں اونٹ، گھوڑے اور نقد مال فراہم کیا۔ اسی خدمت کی وجہ سے انہیں 'جیش العسرہ' کے سامان مہیا کرنے والوں میں نمایاں مقام حاصل ہوا۔ غزوۂ تبوک 9 ہجری میں شدید گرمی، قحط، طویل سفر اور محدود وسائل کے باوجود شمالی عرب میں بازنطینی خطرے کے مقابل ایک بڑی دفاعی مہم تھی۔ تقریباً تیس ہزار مسلمان روانہ ہوئے، لیکن کوئی بڑی جنگ نہ ہوئی۔ تبوک میں قیام کے دوران سرحدی قبائل اور علاقوں سے معاہدات ہوئے، اسلامی ریاست کی سیاسی رسائی شمال تک مضبوط ہوئی اور منافقین کے طرزِ عمل کو بھی نمایاں طور پر بے نقاب کیا گیا۔
MCQ 12غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
اس عیسائی کا کیا نام تھا جس نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ غزوہ موتہ میں حضرت خالد بن ولیدؓ کے ہاتھوں اسلام قبول کیا؟
مالک ابن جریج
مالک ابن عطاہ
مالک ابن ضرار
مالک ابن شیبہ
Correct answerB — مالک ابن عطاہ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: مالک ابن عطاہ۔ موتہ موجودہ اردن کے علاقے میں واقع تھا۔ اس مہم کا پس منظر رسول اللہ ﷺ کے سفیر حارث بن عمیر الازدی کے قتل سے جوڑا جاتا ہے، جو اس زمانے کے سفارتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی تھی۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے اسلام قبول کرنے کے کچھ ہی عرصے بعد موتہ میں غیر معمولی فوجی تدبیر دکھائی۔ روایات میں آتا ہے کہ ان کے ہاتھ میں کئی تلواریں ٹوٹیں، جس سے جنگ کی شدت ظاہر ہوتی ہے۔ غزوۂ موتہ 8 ہجری میں شمالی عرب/شام کی سرحدی فضا میں بازنطینی اثر کے تحت موجود قوتوں کے مقابل پیش آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے تین ہزار کا لشکر بھیجا اور قیادت کی ترتیب پہلے ہی مقرر کی: زید بن حارثہؓ، پھر جعفر بن ابی طالبؓ، پھر عبداللہ بن رواحہؓ۔ تینوں کی شہادت کے بعد حضرت خالد بن ولیدؓ نے فوج کو منظم انداز میں واپس نکالا، جس پر انہیں 'سیف اللہ' کہا گیا۔ یہ معرکہ اسلامی ریاست کے عرب سے باہر بین الاقوامی عسکری رابطے کا اہم آغاز سمجھا جاتا ہے۔ اہم وضاحت: مالک ابن عطاہ کے نام سے اجتماعی قبولِ اسلام کی یہ تفصیل معروف بنیادی سیرت روایات میں نمایاں نہیں؛ ماخذ سے دوبارہ جانچنا بہتر ہے۔
MCQ 13غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
غزوہ بنو لحیان کے کچھ دنوں بعد کس شخص نے مدینہ کے نواحی چراگاہ کے چرواہے اور اونٹوں کو پکڑ لیا اور اس کی بیوی کو ساتھ لے گئے؟
موسیٰ بن اشعری
خالد بن احسن
عیینہ ابن حصن فزاری
ان میں سے کوئی نہیں
Correct answerC — عیینہ ابن حصن فزاری
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: عیینہ ابن حصن فزاری۔ قدیم سیرت میں فوجی اعداد مختلف روایتوں میں معمولی فرق کے ساتھ آتے ہیں۔ اہم تصور یہ ہے کہ اتحادی لشکر مسلمانوں سے کئی گنا بڑا تھا، جبکہ مسلمانوں نے خندق اور داخلی دفاع کے ذریعے عددی کمزوری کو حکمتِ عملی سے متوازن کیا۔ بنو لحیان کا نام واقعۂ رجیع کے پس منظر سے جڑا ہے، جہاں دعوت و تعلیم کے لیے بھیجے گئے صحابہ غداری کا شکار ہوئے۔ بعد کی مہم کا مقصد اس خطرے کا سدباب اور علاقے میں اسلامی ریاست کی موجودگی ظاہر کرنا تھا۔ غزوۂ ذی قَرَد ایک تیز رفتار تعاقبی کارروائی تھی۔ حضرت سلمہ بن اکوعؓ نے غیر معمولی سرعت سے حملہ آوروں کا تعاقب کیا اور مسلمانوں کو خبردار کیا؛ یہ واقعہ سرحدی سلامتی اور فوری ردعمل کی مثال ہے۔ غزوۂ بنو لحیان اور غزوۂ ذی قَرَد مدینہ کے گرد قبائلی خطرات، رجیع کے واقعے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اور مویشیوں پر چھاپوں کے جواب میں دفاعی مہمات تھیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی ریاست کو صرف بڑی باقاعدہ جنگوں نہیں بلکہ تیز رفتار چھاپہ مار کارروائیوں، قبائلی انتقام اور شاہراہوں کی سلامتی سے بھی نمٹنا پڑتا تھا۔
MCQ 14ازواج مطہرات
لے پالک بیٹے کے مسئلے سے متعلق حکم نازل ہونے کے بعد حضرت زینب بنت جحشؓ سے نبی اکرم ﷺ کی شادی کس ہجری میں ہوئی؟
2 ہجری
3 ہجری
4 ہجری
5 ہجری
Correct answerD — 5 ہجری
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 5 ہجری۔ حضرت زینب بنت جحشؓ رسول اللہ ﷺ کی قریبی رشتہ دار اور ام المؤمنین تھیں۔ ان کا نکاح حضرت زید بن حارثہؓ کے بعد رسول اللہ ﷺ سے ہوا، اور اس واقعے کے ذریعے قرآن نے منہ بولے بیٹے کو حقیقی نسبی بیٹے کے برابر سمجھنے کی جاہلی رسم کی اصلاح واضح کی۔ وہ سخاوت و صدقہ میں ممتاز تھیں۔ اسلام نے کفالت اور یتیم پروری کی حوصلہ افزائی کی، لیکن منہ بولے بچے کا نسب اس کے حقیقی والد سے منقطع کرنے کی جاہلی رسم ختم کی۔ سورۃ الاحزاب نے واضح کیا کہ نسبی احکام حقیقی والدین ہی سے وابستہ رہیں گے۔ ازواجِ مطہرات کے نکاح صرف خاندانی واقعات نہیں تھے؛ ان میں بیواؤں کی کفالت، قبائلی مصالحت، دینی تعلیم، سماجی اصلاح اور امت کی تربیت جیسے متعدد پہلو بھی شامل تھے۔ قریش اور عرب کے قبائلی نسب کو سمجھنا سیرت کے سیاسی و سماجی تعلقات سمجھنے میں مدد دیتا ہے، کیونکہ نکاح اور خاندانی رشتے قبائل کے درمیان اعتماد اور ذمہ داری کے اہم ذرائع تھے۔ اہم وضاحت: حضرت زینب بنت جحشؓ سے نکاح 5 ہجری میں ہوا اور سورۃ الاحزاب نے اس واقعے کے ذریعے منہ بولے بیٹے کے نسبی احکام واضح کیے۔
MCQ 15غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
کس غزوہ کے لیے آپ ﷺ دشمن سے رازدارانہ طور پر شام کا کہہ کر فوج شمال کی طرف روانہ کر دی؟
غزوہ بنو مصطلق
غزوہ بنو لحیان
غزوہ دومة الجندل
کوئی نہیں
Correct answerB — غزوہ بنو لحیان
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: غزوہ بنو لحیان۔ قدیم سیرت میں فوجی اعداد مختلف روایتوں میں معمولی فرق کے ساتھ آتے ہیں۔ اہم تصور یہ ہے کہ اتحادی لشکر مسلمانوں سے کئی گنا بڑا تھا، جبکہ مسلمانوں نے خندق اور داخلی دفاع کے ذریعے عددی کمزوری کو حکمتِ عملی سے متوازن کیا۔ بنو لحیان کا نام واقعۂ رجیع کے پس منظر سے جڑا ہے، جہاں دعوت و تعلیم کے لیے بھیجے گئے صحابہ غداری کا شکار ہوئے۔ بعد کی مہم کا مقصد اس خطرے کا سدباب اور علاقے میں اسلامی ریاست کی موجودگی ظاہر کرنا تھا۔ غزوۂ بنو لحیان اور غزوۂ ذی قَرَد مدینہ کے گرد قبائلی خطرات، رجیع کے واقعے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اور مویشیوں پر چھاپوں کے جواب میں دفاعی مہمات تھیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی ریاست کو صرف بڑی باقاعدہ جنگوں نہیں بلکہ تیز رفتار چھاپہ مار کارروائیوں، قبائلی انتقام اور شاہراہوں کی سلامتی سے بھی نمٹنا پڑتا تھا۔ اہم وضاحت: غزوۂ بنو لحیان کی رازداری اور راستے کی تفصیلات سیرت میں ملتی ہیں، مگر 'شام کا کہہ کر شمال روانہ ہوئے' والی عبارت جغرافیائی طور پر مبہم ہے اور ماخذ سے جانچنی چاہیے۔
MCQ 16غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
ابو بصیر کے قریش پر حملوں کا ردعمل قریش پر کیا ہوا؟
انہوں نے معاہدہ حدیبیہ کی پہلی شرط توڑتے ہوئے آپ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ ابو بصیر مدینہ بلایا جائے
انہوں نے آپ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ انہیں واپس مکہ بھجوایا جائے
انہوں نے آپ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ انہیں حملوں سے روکا جائے
کوئی نہیں
Correct answerA — انہوں نے معاہدہ حدیبیہ کی پہلی شرط توڑتے ہوئے آپ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ ابو بصیر مدینہ بلایا جائے
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: انہوں نے معاہدہ حدیبیہ کی پہلی شرط توڑتے ہوئے آپ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ ابو بصیر مدینہ بلایا جائے۔ حدیبیہ کی بڑی شرائط میں اس سال عمرہ کیے بغیر واپسی، اگلے سال تین دن کے عمرے کی اجازت، دس سالہ جنگ بندی اور قبائل کو کسی بھی فریق کے اتحاد میں شامل ہونے کی آزادی شامل تھی۔ صلح حدیبیہ 6 ہجری میں اس وقت ہوئی جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ جنگ کے ارادے کے بغیر عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش نے داخلہ روک دیا، طویل مذاکرات ہوئے، بیعتِ رضوان ہوئی اور پھر دس سالہ جنگ بندی سمیت متعدد شرائط پر معاہدہ طے پایا۔ بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوئیں، لیکن سورۃ الفتح نے اسے 'فتح مبین' قرار دیا؛ امن کے ماحول نے دعوت، سفارت اور قبائلی روابط کے تیز پھیلاؤ کی راہ کھولی۔ اہم وضاحت: قریش نے بالآخر رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ ابو بصیر کے گروہ کو مدینہ بلا لیا جائے اور مکہ سے آنے والے مسلمانوں کی واپسی والی شرط عملاً ختم کی جائے۔ اسے 'پہلی شرط توڑنا' کہنا مفہوم کے لحاظ سے قریب مگر قانونی تعبیر میں سادہ کاری ہے۔
MCQ 17غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
کس غزوہ کے لیے آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ کوئی نیک مسلمان بنو قریظہ کے علاوہ کہیں بھی نماز ظہر ادا نہ کرے گا؟
غزوہ بنو قریظہ
غزوہ بنو غطفان
غزوہ بنو سلیم
غزوہ بنو نضیر
Correct answerA — غزوہ بنو قریظہ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: غزوہ بنو قریظہ۔ خندق کے فوراً بعد بنو قریظہ کا محاصرہ ہوا۔ ان کے بارے میں فیصلہ حضرت سعد بن معاذؓ نے دیا، جنہیں خود بنو قریظہ نے ثالث/منصف کے طور پر قبول کیا تھا۔ اس واقعے میں صحابہ نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کے فہم میں اجتہاد کیا: کچھ نے نماز راستے میں وقت پر ادا کی اور کچھ نے بنو قریظہ پہنچ کر۔ رسول اللہ ﷺ نے دونوں فہم رکھنے والوں کو ملامت نہیں کی، جس سے نص کے فہم میں نیت و اجتہاد کا اہم اصول سامنے آتا ہے۔ بنو قریظہ کا معاملہ غزوۂ خندق کے فوراً بعد سامنے آیا۔ مدینہ کے معاہداتی نظام میں شامل اس قبیلے پر جنگ کے دوران معاہدہ توڑنے اور دشمن اتحاد سے رابطے کا الزام تھا۔ محاصرے کے بعد انہوں نے حضرت سعد بن معاذؓ کا فیصلہ قبول کیا۔ اس واقعے کو معاہدات، جنگی قانون، قبائلی سیاست اور مدینہ کی داخلی سلامتی کے پیچیدہ پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ اہم وضاحت: صحیح حدیث کی مشہور عبارت میں حکم 'عصر کی نماز بنو قریظہ ہی میں پڑھنا' تھا، ظہر نہیں۔ موجودہ سوال میں نماز کا نام غلط ہے۔
MCQ 18غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
غزوہ تبوک میں ذرائع نقل و حمل کی قلت کی وجہ سے ہر دس سپاہیوں کے حصے میں کیا آیا؟
1 اونٹ
2 اونٹ
3 اونٹ
4 اونٹ
Correct answerA — 1 اونٹ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 1 اونٹ۔ تبوک شمال مغربی عرب میں شام کی سمت ایک اہم آبی و تجارتی مقام تھا۔ مہم کا مقصد ممکنہ بازنطینی/غسانی خطرے کا مقابلہ اور شمالی سرحدوں پر سیاسی قوت کا اظہار تھا۔ سواری کی شدید قلت کے باعث کئی مجاہد ایک ہی اونٹ پر باری باری سفر کرتے تھے۔ 'دس افراد فی اونٹ' جیسے اعداد روایتی تخمینے ہیں، مگر اصل حقیقت وسائل کی شدید کمی ہے۔ غزوۂ تبوک 9 ہجری میں شدید گرمی، قحط، طویل سفر اور محدود وسائل کے باوجود شمالی عرب میں بازنطینی خطرے کے مقابل ایک بڑی دفاعی مہم تھی۔ تقریباً تیس ہزار مسلمان روانہ ہوئے، لیکن کوئی بڑی جنگ نہ ہوئی۔ تبوک میں قیام کے دوران سرحدی قبائل اور علاقوں سے معاہدات ہوئے، اسلامی ریاست کی سیاسی رسائی شمال تک مضبوط ہوئی اور منافقین کے طرزِ عمل کو بھی نمایاں طور پر بے نقاب کیا گیا۔ اہم وضاحت: وسائل کی کمی شدید تھی، مگر 'ہر دس سپاہیوں کے لیے ایک اونٹ' ایک تخمینی روایت ہے؛ مختلف بیانات میں تین، اٹھارہ یا زیادہ افراد کے باری باری سواری کرنے کے ذکر ملتے ہیں۔
MCQ 19غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
غزوہ حنین میں آنحضرت ﷺ کے کس عمل سے دشمن اندھا ہو کر میدان جنگ سے بھاگ گیا؟
انہوں نے خدا سے دشمن کے اندھے پن کی دعا کی
دشمن کی آنکھوں پر حملہ کیا گیا
انہوں نے دشمن کی طرف مٹی بھری مٹھی پھینکی
ان میں سے کوئی نہیں
Correct answerC — انہوں نے دشمن کی طرف مٹی بھری مٹھی پھینکی
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: انہوں نے دشمن کی طرف مٹی بھری مٹھی پھینکی۔ حنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی تھی جہاں ہوازن و ثقیف نے راستے کی بلندیوں میں چھپ کر اچانک تیراندازی کی۔ ابتدائی بھگدڑ کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے میدان نہیں چھوڑا اور صحابہ کو دوبارہ جمع کر کے جنگ کا رخ بدل دیا۔ جنگ کے فیصلہ کن مرحلے میں رسول اللہ ﷺ کے دشمن کی طرف مٹی یا کنکریاں پھینکنے کا واقعہ روایات میں آتا ہے۔ اسے جنگی نفسیاتی اثر اور اللہ کی مدد کے بیان کے ساتھ سمجھا جاتا ہے، نہ کہ صرف ایک مادی حربے کے طور پر۔ غزوۂ حنین فتح مکہ کے فوراً بعد 8 ہجری میں ہوازن اور ثقیف کے اتحاد کے خلاف پیش آیا۔ مسلمانوں کی تعداد تقریباً بارہ ہزار تھی، مگر وادی کے تنگ راستے میں اچانک حملے سے ابتدائی انتشار پیدا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ چند ثابت قدم صحابہ کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے، پھر لشکر دوبارہ منظم ہوا اور فتح حاصل ہوئی۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ عددی برتری کامیابی کی ضمانت نہیں؛ نظم، قیادت اور ثابت قدمی بنیادی عوامل ہیں۔
MCQ 20غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
اتحادیوں کے ملنے سے فتح مکہ میں مسلمان لشکر کی تعداد کیا ہوگئی؟
11,000
12,000
13,000
14,000
Correct answerB — 12,000
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 12,000۔ سیرت کی کتابوں میں فوجی تعداد، قلعوں کی گنتی اور فاصلے کے اعداد میں اختلاف ملتا ہے؛ اس لیے عدد کو نصابی جواب کے ساتھ تاریخی تخمینے کے طور پر سمجھنا بہتر ہے۔ فتح مکہ کے لیے روانہ ہونے والے مرکزی مسلم لشکر کا مشہور عدد تقریباً دس ہزار ہے۔ بعض اتحادی قبائل کے ملنے سے مختلف مرحلوں میں تعداد زیادہ بھی بیان کی جاتی ہے۔ فتح مکہ 8 ہجری میں صلح حدیبیہ کے ٹوٹنے کے بعد پیش آئی۔ بنو بکر کے بنو خزاعہ پر حملے اور قریش کی مدد نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ رسول اللہ ﷺ تقریباً دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ کی طرف بڑھے اور شہر بڑی حد تک بغیر وسیع خونریزی کے فتح ہوا۔ فتح کے بعد عام معافی، بتوں کا خاتمہ، خانۂ کعبہ کی تطہیر اور قریش سے خطاب نے اسلامی فتح کو انتقام کے بجائے اخلاقی و سیاسی تبدیلی کے نمونے میں بدل دیا۔ اہم وضاحت: فتح مکہ کا مرکزی لشکر تقریباً 10,000 تھا۔ 12,000 کا عدد زیادہ مشہور طور پر بعد کے غزوۂ حنین میں مسلمانوں کی تعداد سے وابستہ ہے۔