Read each question, consider the options, then reveal the correct answer and explanation.
100 MCQs10 per page6 of 10
MCQ 51غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
منافقین مدینہ کے ایک گھر میں مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے لیے جمع ہوتے تھے؛ آنحضرت ﷺ نے اس گھر کو جلانے کا حکم کس صحابی کو دیا؟
جعفر بن عبداللہؓ
طلحہ بن عبیداللہؓ
زبیر بن عبداللہؓ
حمزہ بن عبداللہؓ
Correct answerB — طلحہ بن عبیداللہؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: طلحہ بن عبیداللہؓ۔ مدینہ میں ایک گھر میں مخالفانہ اجتماع کی خبر پر کارروائی کا ذکر سیرت میں آتا ہے۔ ایسے واقعات کو منافقانہ سیاسی سرگرمیوں اور جنگی حالات میں داخلی سلامتی کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ غزوۂ تبوک 9 ہجری میں شدید گرمی، قحط، طویل سفر اور محدود وسائل کے باوجود شمالی عرب میں بازنطینی خطرے کے مقابل ایک بڑی دفاعی مہم تھی۔ تقریباً تیس ہزار مسلمان روانہ ہوئے، لیکن کوئی بڑی جنگ نہ ہوئی۔ تبوک میں قیام کے دوران سرحدی قبائل اور علاقوں سے معاہدات ہوئے، اسلامی ریاست کی سیاسی رسائی شمال تک مضبوط ہوئی اور منافقین کے طرزِ عمل کو بھی نمایاں طور پر بے نقاب کیا گیا۔ اہم وضاحت: منافقین کے ایک گھر کو جلانے کی کارروائی کی روایت میں مختلف نام آتے ہیں؛ حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ کی نسبت ہر ماخذ میں یکساں نہیں، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔
MCQ 52غزوہ بدر سے غزوہ دومة الجندل تک
غزوہ احد میں قریش کی فوج کی قیادت کس نے کی؟
عبدالعزیٰ طلحہ ابن ابو طلحہ
عبدالرحمن طلحہ ابن ابو حذیفہ
عبدالعزیٰ طلحہ ابن ابو عمر
عبدالرحمن طلحہ ابن جعفر
Correct answerA — عبدالعزیٰ طلحہ ابن ابو طلحہ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: عبدالعزیٰ طلحہ ابن ابو طلحہ۔ اُحد میں قریش تقریباً تین ہزار کے لشکر کے ساتھ آئے، جبکہ منافقین کی واپسی کے بعد مسلمانوں کی تعداد تقریباً سات سو رہ گئی۔ یہ عددی فرق دفاعی منصوبہ بندی اور جبلِ رماۃ کی اہمیت کو سمجھاتا ہے۔ غزوۂ اُحد 3 ہجری میں بدر کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے قریش کے بڑے لشکر کے ساتھ پیش آیا۔ ابتدا میں مسلمانوں کو برتری حاصل ہوئی، لیکن جبلِ رماۃ پر مقرر تیراندازوں میں سے بڑی تعداد کے اپنی جگہ چھوڑنے سے جنگ کا نقشہ بدل گیا۔ قرآن، خصوصاً سورۂ آلِ عمران، نے اس واقعے کو اطاعتِ رسول ﷺ، نظم، صبر، دنیاوی لالچ سے اجتناب اور اجتماعی غلطیوں سے سیکھنے کا بڑا سبق قرار دیا۔ اہم وضاحت: قریش کی مجموعی فوجی قیادت ابوسفیان کے پاس تھی؛ طلحہ بن ابی طلحہ علم بردار تھا۔ سوال میں 'فوج کی قیادت' اور 'علم برداری' خلط ہو گئے ہیں۔
MCQ 53غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
یہودیوں کے منصف سعد بن معاذؓ نے کیا فیصلہ کیا تھا؟
بنو قریظہ کے لڑنے والے آدمیوں کو قتل کر دیا جائے
بنو قریظہ کی عورتوں کو بطور غلام قید کر لیا جائے
بنو قریظہ کی عمر رسیدہ اور بچے قیدی بنا لیے جائیں
تمام بیانات درست ہیں
Correct answerD — تمام بیانات درست ہیں
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: تمام بیانات درست ہیں۔ حضرت سعد بن معاذؓ اوس کے سردار اور جلیل القدر انصاری صحابی تھے۔ خندق میں زخمی ہوئے اور بنو قریظہ کے فیصلے کے کچھ عرصے بعد وفات پائی؛ احادیث میں ان کی عظیم فضیلت بیان ہوئی ہے۔ بنو قریظہ کا معاملہ غزوۂ خندق کے فوراً بعد سامنے آیا۔ مدینہ کے معاہداتی نظام میں شامل اس قبیلے پر جنگ کے دوران معاہدہ توڑنے اور دشمن اتحاد سے رابطے کا الزام تھا۔ محاصرے کے بعد انہوں نے حضرت سعد بن معاذؓ کا فیصلہ قبول کیا۔ اس واقعے کو معاہدات، جنگی قانون، قبائلی سیاست اور مدینہ کی داخلی سلامتی کے پیچیدہ پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ اہم وضاحت: حضرت سعدؓ کے فیصلے کا بنیادی خلاصہ جنگ میں شریک بالغ مردوں کے خلاف سزا اور عورتوں/بچوں کی اسیری ہے۔ 'عمر رسیدہ افراد' کو عمومی طور پر بچوں کے ساتھ قیدی کہنا ہر روایت کی عین تعبیر نہیں۔
MCQ 54ازواج مطہرات
کس فتح کے بعد حضرت صفیہؓ مال غنیمت کے طور پر پیش کی گئیں اور نبی اکرم ﷺ نے ان سے شادی کا فیصلہ کیا؟
فتح مکہ
فتح خیبر
فتح موتہ
فتح طائف
Correct answerB — فتح خیبر
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: فتح خیبر۔ حضرت صفیہ بنت حییؓ بنو نضیر کے معزز یہودی خاندان سے تھیں اور حضرت ہارونؑ کی نسل سے نسبت رکھتی تھیں۔ خیبر کے بعد وہ آزاد ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ سے نکاح ہوا؛ ان کی زندگی بین المذاہب و قبائلی تعلقات کے ایک اہم تاریخی پس منظر کو ظاہر کرتی ہے۔ خیبر 7 ہجری کا اہم واقعہ تھا۔ اس کے بعد شمالی عرب میں مسلمانوں کی سیاسی قوت مضبوط ہوئی اور کئی قبائلی و سماجی تعلقات نئے مرحلے میں داخل ہوئے۔ ازواجِ مطہرات کے نکاح صرف خاندانی واقعات نہیں تھے؛ ان میں بیواؤں کی کفالت، قبائلی مصالحت، دینی تعلیم، سماجی اصلاح اور امت کی تربیت جیسے متعدد پہلو بھی شامل تھے۔ غزوات کے واقعات کو صرف جنگی تاریخ کے طور پر نہیں بلکہ سیاسی، سماجی اور اخلاقی نتائج کے ساتھ سمجھنا چاہیے؛ انہی واقعات سے بہت سے قبائلی تعلقات اور اسلامی احکام بھی واضح ہوئے۔
MCQ 55غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
کس جنگ میں مسلمانوں نے پہلی دفعہ جنگی حربہ منجنیق استعمال کیا؟
حنین
تبوک
موتہ
طائف
Correct answerD — طائف
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: طائف۔ طائف قبیلہ ثقیف کا مضبوط، بلند اور قلعہ بند شہر تھا۔ حنین کے بعد مالک بن عوف اور دیگر جنگجو یہاں پناہ گزین ہوئے، جس کے باعث مسلمانوں نے محاصرہ کیا مگر فوری طور پر شہر فتح نہ ہوا۔ طائف کے محاصرے میں منجنیق اور دبّابہ جیسے محاصراتی آلات کے استعمال کا ذکر آتا ہے۔ یہ ابتدائی اسلامی عسکری تاریخ میں قلعہ بند شہر کے خلاف جدید تر محاصراتی حربوں کے استعمال کی مثال ہے۔ حنین کے بعد دشمن کا ایک بڑا حصہ طائف میں قلعہ بند ہو گیا۔ مسلمانوں نے طائف کا محاصرہ کیا اور منجنیق سمیت محاصرے کے طریقے استعمال کیے، لیکن شہر اسی مہم میں فتح نہیں ہوا۔ محاصرہ اٹھا لیا گیا اور بعد میں ثقیف کا وفد مدینہ آ کر اسلام قبول کرنے پر آمادہ ہوا۔ اس لیے طائف کی مہم کو فوری فتح کے بجائے سیاسی دباؤ اور بعد کی پُرامن تبدیلی کے تسلسل میں سمجھنا چاہیے۔
MCQ 56غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
فتح مکہ سے پہلے آنحضرت ﷺ نے اہل مکہ کی قیادت کس کے حوالے کی اور شمال کی طرف سے داخل ہونے کو کہا؟
حضرت زبیر ابن العوامؓ
حضرت علیؓ
حضرت عمرؓ
حضرت خالد بن ولیدؓ
Correct answerA — حضرت زبیر ابن العوامؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حضرت زبیر ابن العوامؓ۔ حضرت زبیر بن عوامؓ رسول اللہ ﷺ کے قریبی صحابی اور حواری تھے۔ فتح مکہ میں انہیں ایک اہم دستے کی قیادت دی گئی اور مکہ کے بلند حصے کی سمت سے داخلے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ فتح مکہ 8 ہجری میں صلح حدیبیہ کے ٹوٹنے کے بعد پیش آئی۔ بنو بکر کے بنو خزاعہ پر حملے اور قریش کی مدد نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ رسول اللہ ﷺ تقریباً دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ کی طرف بڑھے اور شہر بڑی حد تک بغیر وسیع خونریزی کے فتح ہوا۔ فتح کے بعد عام معافی، بتوں کا خاتمہ، خانۂ کعبہ کی تطہیر اور قریش سے خطاب نے اسلامی فتح کو انتقام کے بجائے اخلاقی و سیاسی تبدیلی کے نمونے میں بدل دیا۔ اہم وضاحت: حضرت زبیرؓ کو مکہ کے بالائی حصے/کداء کی سمت سے داخل ہونے والے دستے کی قیادت سے منسوب کیا جاتا ہے؛ 'اہل مکہ کی قیادت' سوال کی غلط تعبیر ہے۔
MCQ 57غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
خیبر کی پیداوار کا تخمینہ لگانے پر کس صحابی کو مقرر کیا گیا؟
حضرت عبداللہ بن رواحہؓ
حضرت عبداللہ بن معاذؓ
حضرت عبداللہ بن عبداللہؓ
حضرت عبداللہ بن خلیفہؓ
Correct answerA — حضرت عبداللہ بن رواحہؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حضرت عبداللہ بن رواحہؓ۔ خیبر مدینہ کے شمال میں ایک زرخیز، قلعہ بند نخلستانی علاقہ تھا۔ اس کے مختلف قلعوں—جیسے ناعم، نطاۃ، قموص، وطیح اور سلالم—کی وجہ سے جنگ مرحلہ وار محاصروں اور فتوحات کی صورت میں آگے بڑھی۔ خیبر کی زمین مقامی کاشت کاروں کے پاس نصف پیداوار کے معاہدے پر رہنے دی گئی۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ پیداوار کا تخمینہ لگانے کے لیے بھیجے جاتے تھے اور انصاف کے لیے مشہور تھے۔ غزوۂ خیبر 7 ہجری میں شمالی حجاز کے مضبوط قلعہ بند علاقے کے خلاف پیش آیا۔ خیبر زرعی دولت، قلعوں اور مدینہ سے شام جانے والے راستوں کے اعتبار سے اہم تھا۔ فتح کے بعد زمین یہودی کاشت کاروں کے پاس اس شرط پر رہنے دی گئی کہ پیداوار کا ایک حصہ اسلامی ریاست کو دیا جائے؛ اس انتظام سے جنگ کے بعد معاشی نظم اور زمین کے انتظام کا ایک عملی نمونہ سامنے آیا۔
MCQ 58غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
حنین ایک میدان ہے؛ یہ مکہ سے کتنے فاصلے پر واقع ہے؟
10 میل
15 میل
16 میل
20 میل
Correct answerA — 10 میل
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 10 میل۔ حنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی تھی جہاں ہوازن و ثقیف نے راستے کی بلندیوں میں چھپ کر اچانک تیراندازی کی۔ ابتدائی بھگدڑ کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے میدان نہیں چھوڑا اور صحابہ کو دوبارہ جمع کر کے جنگ کا رخ بدل دیا۔ غزوۂ حنین فتح مکہ کے فوراً بعد 8 ہجری میں ہوازن اور ثقیف کے اتحاد کے خلاف پیش آیا۔ مسلمانوں کی تعداد تقریباً بارہ ہزار تھی، مگر وادی کے تنگ راستے میں اچانک حملے سے ابتدائی انتشار پیدا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ چند ثابت قدم صحابہ کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے، پھر لشکر دوبارہ منظم ہوا اور فتح حاصل ہوئی۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ عددی برتری کامیابی کی ضمانت نہیں؛ نظم، قیادت اور ثابت قدمی بنیادی عوامل ہیں۔ اہم وضاحت: حنین مکہ سے تقریباً 10–15 میل کے فاصلے کے اندازوں میں بیان ہوتا ہے؛ 10 میل ایک تقریبی عدد ہے۔
MCQ 59غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے کس کو اہل مدینہ کی قیادت سونپی اور مشرقی حصے سے داخل ہونے کا حکم دیا؟
حضرت سعد ابن عبادہؓ
حضرت جراحؓ
حضرت ابن عتبہؓ
حضرت خالد بن ولیدؓ
Correct answerA — حضرت سعد ابن عبادہؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حضرت سعد ابن عبادہؓ۔ حضرت سعد بن عبادہؓ انصار کے خزرجی سردار تھے۔ فتح مکہ کے موقع پر ایک سخت جملہ منسوب ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے خونریزی سے بچنے کے لیے جھنڈا ان کے بیٹے قیسؓ کو منتقل کرنے کا حکم دیا۔ فتح مکہ 8 ہجری میں صلح حدیبیہ کے ٹوٹنے کے بعد پیش آئی۔ بنو بکر کے بنو خزاعہ پر حملے اور قریش کی مدد نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ رسول اللہ ﷺ تقریباً دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ کی طرف بڑھے اور شہر بڑی حد تک بغیر وسیع خونریزی کے فتح ہوا۔ فتح کے بعد عام معافی، بتوں کا خاتمہ، خانۂ کعبہ کی تطہیر اور قریش سے خطاب نے اسلامی فتح کو انتقام کے بجائے اخلاقی و سیاسی تبدیلی کے نمونے میں بدل دیا۔ اہم وضاحت: حضرت سعد بن عبادہؓ انصار کا جھنڈا رکھتے تھے، لیکن بعد میں جھنڈا ان کے بیٹے قیسؓ کو دینے کی روایت بھی ملتی ہے۔
MCQ 60غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
فتح مکہ کے لیے کوچ کرنے والے لشکر اسلام میں فوج کی کل تعداد کتنی تھی؟
8,000
9,000
10,000
11,000
Correct answerC — 10,000
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 10,000۔ سیرت کی کتابوں میں فوجی تعداد، قلعوں کی گنتی اور فاصلے کے اعداد میں اختلاف ملتا ہے؛ اس لیے عدد کو نصابی جواب کے ساتھ تاریخی تخمینے کے طور پر سمجھنا بہتر ہے۔ فتح مکہ کے لیے روانہ ہونے والے مرکزی مسلم لشکر کا مشہور عدد تقریباً دس ہزار ہے۔ بعض اتحادی قبائل کے ملنے سے مختلف مرحلوں میں تعداد زیادہ بھی بیان کی جاتی ہے۔ فتح مکہ 8 ہجری میں صلح حدیبیہ کے ٹوٹنے کے بعد پیش آئی۔ بنو بکر کے بنو خزاعہ پر حملے اور قریش کی مدد نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ رسول اللہ ﷺ تقریباً دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ کی طرف بڑھے اور شہر بڑی حد تک بغیر وسیع خونریزی کے فتح ہوا۔ فتح کے بعد عام معافی، بتوں کا خاتمہ، خانۂ کعبہ کی تطہیر اور قریش سے خطاب نے اسلامی فتح کو انتقام کے بجائے اخلاقی و سیاسی تبدیلی کے نمونے میں بدل دیا۔