Read each question, consider the options, then reveal the correct answer and explanation.
100 MCQs10 per page7 of 10
MCQ 61غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
فتح مکہ کے دوران جحفہ کے مقام پر آنحضرت ﷺ نے کس سے کہا: تمہاری ہجرت میری نبوت کی طرح آخری ہے؟
حضرت عباسؓ
حضرت حمزہؓ
حضرت علیؓ
حضرت عبداللہؓ
Correct answerA — حضرت عباسؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حضرت عباسؓ۔ اس سوال کو صرف ایک عدد یا نام کے طور پر یاد کرنے کے بجائے متعلقہ واقعے کے سبب، اہم کرداروں، زمانی ترتیب اور نتیجے کے ساتھ سمجھنا زیادہ مفید ہے۔ فتح مکہ 8 ہجری میں صلح حدیبیہ کے ٹوٹنے کے بعد پیش آئی۔ بنو بکر کے بنو خزاعہ پر حملے اور قریش کی مدد نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ رسول اللہ ﷺ تقریباً دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ کی طرف بڑھے اور شہر بڑی حد تک بغیر وسیع خونریزی کے فتح ہوا۔ فتح کے بعد عام معافی، بتوں کا خاتمہ، خانۂ کعبہ کی تطہیر اور قریش سے خطاب نے اسلامی فتح کو انتقام کے بجائے اخلاقی و سیاسی تبدیلی کے نمونے میں بدل دیا۔ اہم وضاحت: جحفہ کے مقام پر 'تمہاری ہجرت میری نبوت کی طرح آخری ہے' حضرت عباسؓ سے منسوب عبارت معروف صحیح حدیث کے طور پر ثابت نہیں؛ اسے روایتی سیرت کے درجے میں رکھیں۔
MCQ 62غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
بنو قریظہ اور قریش کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنے والے اس صحابی کا نام بتائیں جو پہلے یہودی تھے لیکن اب مسلمان ہو چکے تھے اور ان کا قبیلہ اس بات سے آگاہ نہ تھا؟
نعیم بن مسعودؓ
نعیم بن آزر
نعیم بن عثمان
نعیم بن عتبہ
Correct answerA — نعیم بن مسعودؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: نعیم بن مسعودؓ۔ خندق کے فوراً بعد بنو قریظہ کا محاصرہ ہوا۔ ان کے بارے میں فیصلہ حضرت سعد بن معاذؓ نے دیا، جنہیں خود بنو قریظہ نے ثالث/منصف کے طور پر قبول کیا تھا۔ حضرت نعیم بن مسعودؓ نے خفیہ طور پر اسلام قبول کیا تھا اور قبائلی اعتماد کو استعمال کرتے ہوئے قریش، غطفان اور بنو قریظہ کے درمیان بداعتمادی پیدا کی۔ یہ جنگی حکمتِ عملی اتحادی اتحاد کے ٹوٹنے میں معاون بنی۔ بنو قریظہ کا معاملہ غزوۂ خندق کے فوراً بعد سامنے آیا۔ مدینہ کے معاہداتی نظام میں شامل اس قبیلے پر جنگ کے دوران معاہدہ توڑنے اور دشمن اتحاد سے رابطے کا الزام تھا۔ محاصرے کے بعد انہوں نے حضرت سعد بن معاذؓ کا فیصلہ قبول کیا۔ اس واقعے کو معاہدات، جنگی قانون، قبائلی سیاست اور مدینہ کی داخلی سلامتی کے پیچیدہ پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے۔
MCQ 63غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
فتح مکہ کے کتنے دن بعد یہ خبر ملی کہ مکہ کے جنوب مشرق میں آباد ایک قبیلہ اپنی فوجوں کو جمع کر کے مسلمانوں کے خلاف مکہ کی طرف بڑھ رہا ہے؟
15 دن بعد
20 دن بعد
25 دن بعد
30 دن بعد
Correct answerA — 15 دن بعد
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 15 دن بعد۔ اس سوال کو متعلقہ غزوے کے سبب، جغرافیائی مقام، اہم شخصیات، زمانی ترتیب اور نتیجے کے ساتھ جوڑ کر یاد کرنا زیادہ مفید ہے۔ غزوۂ حنین فتح مکہ کے فوراً بعد 8 ہجری میں ہوازن اور ثقیف کے اتحاد کے خلاف پیش آیا۔ مسلمانوں کی تعداد تقریباً بارہ ہزار تھی، مگر وادی کے تنگ راستے میں اچانک حملے سے ابتدائی انتشار پیدا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ چند ثابت قدم صحابہ کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے، پھر لشکر دوبارہ منظم ہوا اور فتح حاصل ہوئی۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ عددی برتری کامیابی کی ضمانت نہیں؛ نظم، قیادت اور ثابت قدمی بنیادی عوامل ہیں۔ اہم وضاحت: فتح مکہ کے بعد حنین کی تیاری بہت جلد ہوئی؛ '15 دن بعد' ایک نصابی اندازہ ہے، جبکہ مشہور chronology میں فتح مکہ اور حنین کے درمیان تقریباً دو ہفتے کے قریب وقفہ تھا۔
MCQ 64غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
آنحضرت ﷺ کے اس چچا کا نام بتائیں جنہوں نے قریش کو مذاکرات کے دوران چھوڑ کر آپ کے خاندان کے ہمراہ اسلام قبول کیا؟
حضرت عباسؓ
حضرت حمزہؓ
حضرت عبدالمطلب
ان میں سے کوئی نہیں
Correct answerA — حضرت عباسؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حضرت عباسؓ۔ اس سوال کو صرف ایک عدد یا نام کے طور پر یاد کرنے کے بجائے متعلقہ واقعے کے سبب، اہم کرداروں، زمانی ترتیب اور نتیجے کے ساتھ سمجھنا زیادہ مفید ہے۔ فتح مکہ 8 ہجری میں صلح حدیبیہ کے ٹوٹنے کے بعد پیش آئی۔ بنو بکر کے بنو خزاعہ پر حملے اور قریش کی مدد نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ رسول اللہ ﷺ تقریباً دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ کی طرف بڑھے اور شہر بڑی حد تک بغیر وسیع خونریزی کے فتح ہوا۔ فتح کے بعد عام معافی، بتوں کا خاتمہ، خانۂ کعبہ کی تطہیر اور قریش سے خطاب نے اسلامی فتح کو انتقام کے بجائے اخلاقی و سیاسی تبدیلی کے نمونے میں بدل دیا۔ اہم وضاحت: حضرت عباسؓ کے اسلام کے وقت کے بارے میں روایات مختلف ہیں؛ بہت سے مؤرخین انہیں فتح مکہ سے پہلے ہی مسلمان مانتے ہیں، اگرچہ انہوں نے ہجرت دیر سے کی۔
MCQ 65غزوہ بدر سے غزوہ دومة الجندل تک
جنگ احد میں کس شخص نے اپنی موت کے وقت اسلام قبول کیا اور ایک بھی نماز ادا کیے بغیر شہادت کے رتبہ سے سرفراز ہوئے؟
حضرت عمرو بن ثابتؓ
حضرت حنظلہ بن ثابتؓ
حضرت حنظلہ بن حارثؓ
حضرت حنظلہ بن شیبہؓ
Correct answerB — حضرت حنظلہ بن ثابتؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حضرت حنظلہ بن ثابتؓ۔ حضرت حنظلہ بن ابی عامرؓ نئی شادی کے فوراً بعد میدانِ اُحد پہنچے اور شہید ہوئے۔ روایات میں انہیں 'غسیل الملائکہ' کہا گیا کیونکہ ان کی شہادت کے بعد فرشتوں کے غسل دینے کا ذکر آتا ہے۔ غزوۂ اُحد 3 ہجری میں بدر کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے قریش کے بڑے لشکر کے ساتھ پیش آیا۔ ابتدا میں مسلمانوں کو برتری حاصل ہوئی، لیکن جبلِ رماۃ پر مقرر تیراندازوں میں سے بڑی تعداد کے اپنی جگہ چھوڑنے سے جنگ کا نقشہ بدل گیا۔ قرآن، خصوصاً سورۂ آلِ عمران، نے اس واقعے کو اطاعتِ رسول ﷺ، نظم، صبر، دنیاوی لالچ سے اجتناب اور اجتماعی غلطیوں سے سیکھنے کا بڑا سبق قرار دیا۔ اہم وضاحت: ایک نماز بھی ادا کیے بغیر شہید ہونے والے مشہور صحابی 'اُصَیرِم' عمرو بن ثابتؓ تھے؛ موجودہ کلید حضرت حنظلہ بن ثابتؓ غلط ہے۔
MCQ 66غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
اس شخص کا نام بتائیں جس نے فتح مکہ کے موقع پر کعبہ کے پردوں میں پناہ لی لیکن وہاں بھی قتل کر دیا گیا؟
عبداللہ ابن خطل
عبدالرحمن بن خطل
صفوان ابن امیہ
ان میں سے کوئی نہیں
Correct answerB — عبدالرحمن بن خطل
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: عبدالرحمن بن خطل۔ فتح مکہ میں چند افراد کو سنگین جرائم کی بنا پر استثنا دیا گیا۔ ابن خَطَل ان افراد میں مشہور ہے جو کعبہ کے پردوں سے لپٹا ملا اور قتل کیا گیا۔ فتح مکہ 8 ہجری میں صلح حدیبیہ کے ٹوٹنے کے بعد پیش آئی۔ بنو بکر کے بنو خزاعہ پر حملے اور قریش کی مدد نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ رسول اللہ ﷺ تقریباً دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ کی طرف بڑھے اور شہر بڑی حد تک بغیر وسیع خونریزی کے فتح ہوا۔ فتح کے بعد عام معافی، بتوں کا خاتمہ، خانۂ کعبہ کی تطہیر اور قریش سے خطاب نے اسلامی فتح کو انتقام کے بجائے اخلاقی و سیاسی تبدیلی کے نمونے میں بدل دیا۔ اہم وضاحت: صحیح نام عبداللہ بن خَطَل تھا، 'عبدالرحمن بن خطل' نہیں۔ وہ عام معافی سے مستثنیٰ افراد میں شمار ہوا اور کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا پایا گیا۔
MCQ 67ازواج مطہرات
شادی کے وقت حضرت محمد ﷺ کی عمر 25 سال اور حضرت خدیجہؓ کی عمر؟
30 سال
35 سال
40 سال
45 سال
Correct answerC — 40 سال
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 40 سال۔ حضرت خدیجہ بنت خویلدؓ رسول اللہ ﷺ کی پہلی زوجہ، ابتدائی اسلام کی سب سے بڑی مددگار اور حضرت فاطمہؓ سمیت آپ ﷺ کی اولاد کی والدہ تھیں۔ انہوں نے آغازِ وحی کے مشکل مرحلے میں مالی، جذباتی اور اخلاقی سہارا دیا، اس لیے سیرت میں ان کا مقام غیر معمولی ہے۔ ازواجِ مطہرات کے نکاح صرف خاندانی واقعات نہیں تھے؛ ان میں بیواؤں کی کفالت، قبائلی مصالحت، دینی تعلیم، سماجی اصلاح اور امت کی تربیت جیسے متعدد پہلو بھی شامل تھے۔ قدیم سیرت میں عمر کے اعداد عموماً نسبی و تاریخی روایات سے اخذ ہوتے ہیں؛ مختلف تقاویم اور روایات کی وجہ سے بعض شخصیات کی صحیح عمر میں اختلاف ملتا ہے۔ اہم وضاحت: حضرت خدیجہؓ کی عمرِ نکاح 40 سال مشہور سیرتی روایت ہے، مگر بعض تاریخی روایات کم عمر بھی بیان کرتی ہیں؛ قطعی اتفاق نہیں۔
MCQ 68غزوہ بدر سے غزوہ دومة الجندل تک
آنحضرت ﷺ بنو نضیر کے پاس دیت کے معاملے کیلئے گئے تھے؛ اس ملاقات کے دوران کس یہودی نے آپ ﷺ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا؟
حیی بن اخطب
نضر بن حارث
سلام بن مشکم
کنانہ بن حارث
Correct answerA — حیی بن اخطب
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حیی بن اخطب۔ بنو نضیر مدینہ کے بااثر یہودی قبائل میں سے تھے۔ دیت کے معاملے پر ملاقات کے دوران رسول اللہ ﷺ کے خلاف قتل کی سازش کی اطلاع کے بعد معاہداتی بحران پیدا ہوا، محاصرہ ہوا اور بالآخر انہیں مدینہ چھوڑنا پڑا۔ غزوۂ بنو نضیر 4 ہجری میں ایک معاہداتی و سیاسی بحران کے نتیجے میں پیش آیا۔ محاصرے کے بعد بنو نضیر کو مدینہ چھوڑنا پڑا اور ان کی زمین و اموال کے متعلق 'فَے' کے احکام کا عملی اطلاق سامنے آیا۔ یہ واقعہ سورۂ حشر کے تاریخی پس منظر سے بھی جڑا ہوا ہے اور ریاستی معاہدات کی پابندی کی اہمیت واضح کرتا ہے۔ اہم وضاحت: بنو نضیر میں رسول اللہ ﷺ پر پتھر گرا کر قتل کرنے کی تجویز عمرو بن جحاش سے منسوب ہے؛ حیی بن اخطب قبیلے کا اہم سردار تھا مگر موجودہ کلید واقعے کی مخصوص نسبت سے درست نہیں۔
MCQ 69غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
8 ہجری میں مسلمان فوج کس تاریخ کو مدینہ سے فتح مکہ کے لیے روانہ ہوئی؟
10 رمضان
15 رمضان
20 رمضان
25 رمضان
Correct answerC — 20 رمضان
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 20 رمضان۔ اس سوال کو صرف ایک عدد یا نام کے طور پر یاد کرنے کے بجائے متعلقہ واقعے کے سبب، اہم کرداروں، زمانی ترتیب اور نتیجے کے ساتھ سمجھنا زیادہ مفید ہے۔ فتح مکہ 8 ہجری میں صلح حدیبیہ کے ٹوٹنے کے بعد پیش آئی۔ بنو بکر کے بنو خزاعہ پر حملے اور قریش کی مدد نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ رسول اللہ ﷺ تقریباً دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ کی طرف بڑھے اور شہر بڑی حد تک بغیر وسیع خونریزی کے فتح ہوا۔ فتح کے بعد عام معافی، بتوں کا خاتمہ، خانۂ کعبہ کی تطہیر اور قریش سے خطاب نے اسلامی فتح کو انتقام کے بجائے اخلاقی و سیاسی تبدیلی کے نمونے میں بدل دیا۔ اہم وضاحت: مسلم لشکر فتح مکہ کے لیے رمضان 8 ہجری کے اوائل، مشہور طور پر 10 رمضان کے قریب، مدینہ سے روانہ ہوا؛ 20 رمضان روانگی کی تاریخ درست نہیں۔
MCQ 70غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
فتح مکہ کے دوران کس کو ابوعبیدہ ابن الجراح کا سالار مقرر کرتے ہوئے اپنے حصے سے مکہ میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا؟
حضرت ابوعبیدہ ابن الجراحؓ
حضرت ابوعبیدہ ابن عبداللہؓ
حضرت ابوعبیدہ ابن حذیفہؓ
حضرت ابوعبیدہ ابن رواحہؓ
Correct answerA — حضرت ابوعبیدہ ابن الجراحؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حضرت ابوعبیدہ ابن الجراحؓ۔ اس سوال کو صرف ایک عدد یا نام کے طور پر یاد کرنے کے بجائے متعلقہ واقعے کے سبب، اہم کرداروں، زمانی ترتیب اور نتیجے کے ساتھ سمجھنا زیادہ مفید ہے۔ فتح مکہ 8 ہجری میں صلح حدیبیہ کے ٹوٹنے کے بعد پیش آئی۔ بنو بکر کے بنو خزاعہ پر حملے اور قریش کی مدد نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ رسول اللہ ﷺ تقریباً دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ کی طرف بڑھے اور شہر بڑی حد تک بغیر وسیع خونریزی کے فتح ہوا۔ فتح کے بعد عام معافی، بتوں کا خاتمہ، خانۂ کعبہ کی تطہیر اور قریش سے خطاب نے اسلامی فتح کو انتقام کے بجائے اخلاقی و سیاسی تبدیلی کے نمونے میں بدل دیا۔ اہم وضاحت: ابوعبیدہ بن الجراحؓ خود ایک مستقل دستے کے امیر تھے؛ سوال میں انہیں کسی اور کا 'سالار مقرر' کرنے کی عبارت مبہم ہے۔