Read each question, consider the options, then reveal the correct answer and explanation.
100 MCQs10 per page4 of 10
MCQ 31غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
حدیبیہ کے معاہدہ کے بعد آپ ﷺ نے کس کے مشورے پر پہلے خود اپنا احرام کھولا جس کو دیکھتے ہی صحابہ کرام نے بھی اپنے احرام کھول دیے؟
حضرت ام سلمہؓ
حضرت عائشہؓ
حضرت سودہؓ
حضرت جویریہؓ
Correct answerA — حضرت ام سلمہؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حضرت ام سلمہؓ۔ غزوۂ ذی قَرَد ایک تیز رفتار تعاقبی کارروائی تھی۔ حضرت سلمہ بن اکوعؓ نے غیر معمولی سرعت سے حملہ آوروں کا تعاقب کیا اور مسلمانوں کو خبردار کیا؛ یہ واقعہ سرحدی سلامتی اور فوری ردعمل کی مثال ہے۔ حضرت ام سلمہؓ اپنی دانش و بصیرت کے لیے معروف تھیں۔ حدیبیہ میں صحابہ کے غم و تردد کے وقت انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مشورہ دیا کہ آپ خود قربانی اور حلق کا عمل شروع کریں؛ صحابہ نے فوراً اتباع کی۔ صلح حدیبیہ 6 ہجری میں اس وقت ہوئی جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ جنگ کے ارادے کے بغیر عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش نے داخلہ روک دیا، طویل مذاکرات ہوئے، بیعتِ رضوان ہوئی اور پھر دس سالہ جنگ بندی سمیت متعدد شرائط پر معاہدہ طے پایا۔ بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوئیں، لیکن سورۃ الفتح نے اسے 'فتح مبین' قرار دیا؛ امن کے ماحول نے دعوت، سفارت اور قبائلی روابط کے تیز پھیلاؤ کی راہ کھولی۔
MCQ 32غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
یہودیوں کے مضبوط ترین قلعہ قموص کا مالک کون تھا؟
ابو رافع سلام ابن ابی الحقیق
ابو رافع سلام ابن حسان
ابو رافع سلام ابن حذیفہ
ابو رافع سلام ابن عقیق
Correct answerA — ابو رافع سلام ابن ابی الحقیق
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: ابو رافع سلام ابن ابی الحقیق۔ خیبر کے مشہور واقعے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جھنڈا ایسے شخص کو دیں گے جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے؛ اگلے دن جھنڈا حضرت علیؓ کو دیا گیا۔ انہوں نے قلعہ بند مقاومت میں نمایاں کردار ادا کیا اور مرحب کے ساتھ ان کا مبارزہ بھی مشہور ہے۔ غزوۂ خیبر 7 ہجری میں شمالی حجاز کے مضبوط قلعہ بند علاقے کے خلاف پیش آیا۔ خیبر زرعی دولت، قلعوں اور مدینہ سے شام جانے والے راستوں کے اعتبار سے اہم تھا۔ فتح کے بعد زمین یہودی کاشت کاروں کے پاس اس شرط پر رہنے دی گئی کہ پیداوار کا ایک حصہ اسلامی ریاست کو دیا جائے؛ اس انتظام سے جنگ کے بعد معاشی نظم اور زمین کے انتظام کا ایک عملی نمونہ سامنے آیا۔ اہم وضاحت: قموص کو کنانہ بن ابی الحقیق کے خاندان سے منسوب کیا جاتا ہے؛ ابو رافع سلام بن ابی الحقیق پہلے قتل ہو چکے تھے، اس لیے موجودہ جواب تاریخی ترتیب سے قابلِ نظرثانی ہے۔
MCQ 33غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
اس غیر مسلم کا نام بتائیں جس کو نبی اکرم ﷺ نے غزوہ حنین کے بعد توقعات سے بڑھ کر انعام دے کر اسلام سے نوازا؟
صفوان ابن امیہ
صفوان ابن عتبہ
صفوان ابن سوسن
صفوان ابن حبیب
Correct answerA — صفوان ابن امیہ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: صفوان ابن امیہ۔ حنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی تھی جہاں ہوازن و ثقیف نے راستے کی بلندیوں میں چھپ کر اچانک تیراندازی کی۔ ابتدائی بھگدڑ کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے میدان نہیں چھوڑا اور صحابہ کو دوبارہ جمع کر کے جنگ کا رخ بدل دیا۔ صفوان بن امیہ فتح مکہ کے وقت ابھی پوری طرح اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ حنین و طائف کے بعد رسول اللہ ﷺ کے فیاضانہ سلوک نے ان پر گہرا اثر ڈالا اور وہ اسلام لے آئے۔ غزوۂ حنین فتح مکہ کے فوراً بعد 8 ہجری میں ہوازن اور ثقیف کے اتحاد کے خلاف پیش آیا۔ مسلمانوں کی تعداد تقریباً بارہ ہزار تھی، مگر وادی کے تنگ راستے میں اچانک حملے سے ابتدائی انتشار پیدا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ چند ثابت قدم صحابہ کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے، پھر لشکر دوبارہ منظم ہوا اور فتح حاصل ہوئی۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ عددی برتری کامیابی کی ضمانت نہیں؛ نظم، قیادت اور ثابت قدمی بنیادی عوامل ہیں۔
MCQ 34غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
آنحضرت ﷺ نے عبداللہ بن رواحہ اور خوات بن جبیر کے ساتھ کس شخص کو بھیجا تاکہ بنو قریظہ کی دھوکہ دہی کی خبر کی تصدیق کی جا سکے؟
سعد بن معاذؓ
سعد بن عبادہؓ
دونوں
ان میں سے کوئی نہیں
Correct answerC — دونوں
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: دونوں۔ بنو قریظہ مدینہ میں موجود اہم یہودی قبیلہ تھا اور مسلمانوں کے ساتھ معاہداتی تعلق رکھتا تھا۔ خندق کے دوران ان کے رویے نے مدینہ کے اندر سے حملے کے خطرے کو بڑھایا، جس سے مسلمانوں پر دو طرفہ دباؤ پیدا ہوا۔ غزوۂ خندق، جسے غزوۂ احزاب بھی کہا جاتا ہے، 5 ہجری میں مدینہ پر قریش اور ان کے اتحادی قبائل کے بڑے حملے کے مقابل دفاعی معرکہ تھا۔ حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے سے مدینہ کے کھلے حصے میں خندق کھودنا عرب کے جنگی ماحول میں ایک غیر معمولی دفاعی حکمتِ عملی تھی۔ قرآن کی سورۃ الاحزاب اس بحران، منافقین کے رویے، اہلِ ایمان کی ثابت قدمی اور آخرکار شدید ہوا کے ذریعے اتحادی لشکر کے منتشر ہونے کا ذکر کرتی ہے۔ اہم وضاحت: مشہور سیرت کے مطابق بنو قریظہ کی خبر جانچنے کے لیے سعد بن معاذؓ، سعد بن عبادہؓ، عبداللہ بن رواحہؓ اور خوات بن جبیرؓ پر مشتمل وفد بھیجا گیا؛ 'دونوں' اسی تناظر میں درست ہے۔
MCQ 35ازواج مطہرات
نبی اکرم ﷺ کی اس زوجہ محترمہ کا نام بتائیں جن سے آپ نے عمرہ کے بعد حالت احرام میں شادی کی؟
حضرت صفیہؓ
حضرت میمونہؓ
حضرت ام سلمہؓ
ماریہ قبطیہؓ
Correct answerB — حضرت میمونہؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حضرت میمونہؓ۔ حضرت میمونہ بنت حارثؓ رسول اللہ ﷺ کی آخری نکاح کی جانے والی ازواج میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کے وسیع خاندانی روابط حضرت عباسؓ، ابن عباسؓ، خالد بن ولیدؓ اور دیگر معروف شخصیات سے جڑتے تھے، جس سے عرب قبائل کے درمیان سماجی رشتوں کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ ازواجِ مطہرات کے نکاح صرف خاندانی واقعات نہیں تھے؛ ان میں بیواؤں کی کفالت، قبائلی مصالحت، دینی تعلیم، سماجی اصلاح اور امت کی تربیت جیسے متعدد پہلو بھی شامل تھے۔ قدیم سیرت میں عمر کے اعداد عموماً نسبی و تاریخی روایات سے اخذ ہوتے ہیں؛ مختلف تقاویم اور روایات کی وجہ سے بعض شخصیات کی صحیح عمر میں اختلاف ملتا ہے۔ اہم وضاحت: حضرت میمونہؓ کے نکاح کے وقت احرام کی حالت کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ ابن عباسؓ کی روایت احرام کا ذکر کرتی ہے، جبکہ صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق نکاح حالتِ حلال میں ہوا؛ اس لیے اسے اختلافی مسئلہ سمجھیں۔
MCQ 36غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
غزوہ خندق کے بعد کس کے قبول اسلام پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آج مکہ نے اپنے بیٹے ہمارے حوالے کر دیے ہیں؟
خالد بن ولیدؓ
عثمان بن طلحہؓ
عمرو بن العاصؓ
تمام
Correct answerD — تمام
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: تمام۔ اس سوال کو متعلقہ واقعے کے سبب، اہم کرداروں، زمانی ترتیب اور نتیجے کے ساتھ جوڑ کر یاد کرنا زیادہ مفید ہے، کیونکہ مدنی دور کے یہ واقعات ایک دوسرے سے مسلسل سیاسی و سماجی تسلسل رکھتے ہیں۔ غزوۂ خندق، جسے غزوۂ احزاب بھی کہا جاتا ہے، 5 ہجری میں مدینہ پر قریش اور ان کے اتحادی قبائل کے بڑے حملے کے مقابل دفاعی معرکہ تھا۔ حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے سے مدینہ کے کھلے حصے میں خندق کھودنا عرب کے جنگی ماحول میں ایک غیر معمولی دفاعی حکمتِ عملی تھی۔ قرآن کی سورۃ الاحزاب اس بحران، منافقین کے رویے، اہلِ ایمان کی ثابت قدمی اور آخرکار شدید ہوا کے ذریعے اتحادی لشکر کے منتشر ہونے کا ذکر کرتی ہے۔ اہم وضاحت: خالد بن ولیدؓ، عمرو بن العاصؓ اور عثمان بن طلحہؓ کا اسلام قبول کرنا خندق کے فوراً بعد نہیں بلکہ حدیبیہ کے بعد، فتح مکہ سے پہلے 8 ہجری کے قریب ہوا؛ سوال زمانی طور پر گمراہ کن ہے۔
MCQ 37غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
“اے گروہ انصار! آج تم نے آنحضرت ﷺ کی مدد کی اور ان کی قوم نے انہیں چھوڑ دیا ...” غزوہ حنین میں یہ الفاظ کس نے کہے؟
حضرت عمرؓ
حضرت عباسؓ
حضرت ابوبکرؓ
حضرت علیؓ
Correct answerB — حضرت عباسؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حضرت عباسؓ۔ حنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی تھی جہاں ہوازن و ثقیف نے راستے کی بلندیوں میں چھپ کر اچانک تیراندازی کی۔ ابتدائی بھگدڑ کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے میدان نہیں چھوڑا اور صحابہ کو دوبارہ جمع کر کے جنگ کا رخ بدل دیا۔ حضرت عباسؓ کی بلند آواز سے انصار اور بیعتِ رضوان کے صحابہ کو پکارا گیا۔ لشکر نے دوبارہ پلٹ کر رسول اللہ ﷺ کے گرد صفیں قائم کیں اور جنگ کا پانسہ بدل گیا۔ غزوۂ حنین فتح مکہ کے فوراً بعد 8 ہجری میں ہوازن اور ثقیف کے اتحاد کے خلاف پیش آیا۔ مسلمانوں کی تعداد تقریباً بارہ ہزار تھی، مگر وادی کے تنگ راستے میں اچانک حملے سے ابتدائی انتشار پیدا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ چند ثابت قدم صحابہ کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے، پھر لشکر دوبارہ منظم ہوا اور فتح حاصل ہوئی۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ عددی برتری کامیابی کی ضمانت نہیں؛ نظم، قیادت اور ثابت قدمی بنیادی عوامل ہیں۔
MCQ 38ازواج مطہرات
آپ ﷺ سے نکاح کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمر؟
6 سال
8 سال
10 سال
12 سال
Correct answerA — 6 سال
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 6 سال۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صاحبزادی، ام المؤمنین اور اسلامی علمی روایت کی نمایاں ترین خواتین میں سے ہیں۔ انہوں نے حدیث، فقہ، سیرت، طب، نسب اور عربی زبان کے علم کو اگلی نسلوں تک منتقل کیا اور دو ہزار سے زائد احادیث ان سے مروی ہیں۔ ازواجِ مطہرات کے نکاح صرف خاندانی واقعات نہیں تھے؛ ان میں بیواؤں کی کفالت، قبائلی مصالحت، دینی تعلیم، سماجی اصلاح اور امت کی تربیت جیسے متعدد پہلو بھی شامل تھے۔ قدیم سیرت میں عمر کے اعداد عموماً نسبی و تاریخی روایات سے اخذ ہوتے ہیں؛ مختلف تقاویم اور روایات کی وجہ سے بعض شخصیات کی صحیح عمر میں اختلاف ملتا ہے۔ اہم وضاحت: حضرت عائشہؓ کی عمرِ نکاح کے بارے میں روایتی حدیثی بیان چھ سال ہے؛ جدید دور میں تاریخی chronology کی بنیاد پر متبادل آرا بھی پیش کی گئی ہیں۔ امتحانی تناظر میں ماخذ اور سوال کے معیار کو ملحوظ رکھیں۔
MCQ 39غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
فتح مکہ میں ابوعبیدہ ابن جراحؓ نے سپہ سالاری واپس کیوں لے لی؟
کیونکہ انہوں نے خود انکار کیا تھا
کیونکہ وہ وادی کی بجائے زیر حصے سے داخل ہونا چاہتے تھے
کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے قبیلے میں خونریزی ہوگی
کوئی نہیں
Correct answerC — کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے قبیلے میں خونریزی ہوگی
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے قبیلے میں خونریزی ہوگی۔ اس سوال کو صرف ایک عدد یا نام کے طور پر یاد کرنے کے بجائے متعلقہ واقعے کے سبب، اہم کرداروں، زمانی ترتیب اور نتیجے کے ساتھ سمجھنا زیادہ مفید ہے۔ فتح مکہ 8 ہجری میں صلح حدیبیہ کے ٹوٹنے کے بعد پیش آئی۔ بنو بکر کے بنو خزاعہ پر حملے اور قریش کی مدد نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ رسول اللہ ﷺ تقریباً دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ کی طرف بڑھے اور شہر بڑی حد تک بغیر وسیع خونریزی کے فتح ہوا۔ فتح کے بعد عام معافی، بتوں کا خاتمہ، خانۂ کعبہ کی تطہیر اور قریش سے خطاب نے اسلامی فتح کو انتقام کے بجائے اخلاقی و سیاسی تبدیلی کے نمونے میں بدل دیا۔ اہم وضاحت: حضرت سعد بن عبادہؓ سے منسوب سخت جملے کے بعد جھنڈا واپس لینے کا واقعہ مشہور ہے؛ ابوعبیدہؓ نے 'اپنی سپہ سالاری واپس' نہیں لی۔ موجودہ سوال غالباً شخصیات خلط کر رہا ہے۔
MCQ 40غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
حدیبیہ کے زمانہ مسئلہ کے دوران مکہ کے نواحی طبقے کے کتنے لوگوں نے رات کے وقت مسلمانوں پر حملہ کر دیا؟
80
85
100
115
Correct answerA — 80
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 80۔ اس سوال کو متعلقہ واقعے کے سبب، اہم کرداروں، زمانی ترتیب اور نتیجے کے ساتھ جوڑ کر یاد کرنا زیادہ مفید ہے، کیونکہ مدنی دور کے یہ واقعات ایک دوسرے سے مسلسل سیاسی و سماجی تسلسل رکھتے ہیں۔ صلح حدیبیہ 6 ہجری میں اس وقت ہوئی جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ جنگ کے ارادے کے بغیر عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش نے داخلہ روک دیا، طویل مذاکرات ہوئے، بیعتِ رضوان ہوئی اور پھر دس سالہ جنگ بندی سمیت متعدد شرائط پر معاہدہ طے پایا۔ بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوئیں، لیکن سورۃ الفتح نے اسے 'فتح مبین' قرار دیا؛ امن کے ماحول نے دعوت، سفارت اور قبائلی روابط کے تیز پھیلاؤ کی راہ کھولی۔ اہم وضاحت: تقریباً 80 مسلح افراد کے مسلمانوں پر اچانک حملے اور گرفتار ہونے کی روایت ملتی ہے؛ قرآن 48:24 بھی مکہ کے قریب دونوں فریقوں کے ہاتھ روکنے کا ذکر کرتا ہے۔